رسائی کے لنکس

logo-print

ایرانی انتخابات، اعتدال پسندوں کو اکثریت حاصل ہونے کی امید


سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، 68 نشستوں میں سے روحانی کے 'امید کی کرن' نامی اتحاد نے 33 جب کہ قدامت پسند سیاست دانوں نے 21 نشستیں جیتی ہیں۔ بقیہ نشستوں پر مقابلہ جاری ہے۔ ہفتے کی شام گئے، حتمی نتائج کا اعلان متوقع ہے

ایران کے پارلیمان کے دوسرے مرحلے کے انتخابات کے غیرسرکاری نتائج سے پتا چلتا ہے کہ قدامت پسند حریفوں کے مقابلے میں، اصلاحات اور اعتدال پسند سیاست دانوں نے، جن کا تعلق صدر حسن روحانی کے اتحاد سے ہے، زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں، اور عین ممکن ہے کہ اُنھیں قانون ساز ادارے میں کنٹرول حاصل ہو جائے۔

ایرانیوں نے جمعے کے روز 68 سیٹوں کو پُر کرنے کے لیے ووٹنگ کا آغاز کیا، جن میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران کسی امیدوار نے فیصلہ کُن نتیجہ نہیں دکھایا، جو فروری میں منعقد ہوئے تھے۔

پہلے انتخابی مرحلے میں اصلاح پسند سیاستدانوں نے اکثریت حاصل کی تھی، جن نشستوں پر واضح نتائج برآمد ہوئے تھے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، 68 نشستوں میں سے روحانی کے 'امید کی کرن' نامی اتحاد نے 33 جب کہ قدامت پسند سیاست دانوں نے 21 نشستیں جیتی ہیں۔ بقیہ نشستوں پر مقابلہ جاری ہے۔

ہفتے کی شام گئے، حتمی نتائج کا اعلان متوقع ہے۔

اگر اِن نتائج کی سرکاری طور پر تصدیق ہوجاتی ہے، تو اس سے ایرانی سیاست میں ایک ڈرامائی تبدیلی واقع ہوگی، اور یوں سنہ 2004 سے اب تک پہلی بار ایوان میں قدامت پسندوں کے مقابلے میں اعتدال پسندوں کی اکثریت ہوگی۔

جمعے کی کامیابی کے بعد، اصلاح پسندوں کی تعداد 290 ارکان کے قانون ساز ادارے میں بڑھ کر 128 ہو جائے گی۔

کُلی واضح اکثریت سے کم تعداد کے باوجود، وہ قدامت پسندوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں گے، جن کی تعداد 124 ہے؛ جس کی مدد سے وہ اسلامی جمہوریہ کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، اور اُنھیں اصلاحات پر مبنی قانون سازی کا اختیار حاصل ہوگا۔

XS
SM
MD
LG