رسائی کے لنکس

مودی حکومت نے بھی افغانستان کے معاملے پر سر جوڑ لیے، کابینہ کمیٹی کا اجلاس


کابل پر طالبان کے قبضے اور صدر اشرف غنی کے ملک چھوڑ کر جانے کے بعد بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پہلی بار سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر کے افغانستان کی موجودہ صورتِ حال پر غور و خوض کیا۔

اجلاس میں شریک حکومت کے اہل کاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت کو آئندہ چند دنوں کے اندر بھارت آنے کے خواہش مند افغان بھائی بہنوں کو ہر قسم کی مدد فراہم کرنی چاہیے۔

ذرائع کے مطابق بھارت اس وقت 'دیکھو اور انتظار کرو' کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ وہ افغانستان میں قائم ہونے والی نئی حکومت کو تسلیم کرنے والا پہلا یا آخری ملک نہیں ہو گا۔

بدھ کو ہونے والے اجلاس میں وزیرِ اعظم کے علاوہ وزیرِ داخلہ امت شاہ، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیرِ مالیات نرملا سیتا رمن، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول، خارجہ سیکریٹری ہرش وردھن شرنگلا اور افغانستان میں بھارت کے سفیر رودریندرا ٹنڈن نے شرکت کی۔ وہ منگل کو ہی کابل سے بھارت آئے تھے۔

وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر اس میں اس لیے شریک نہیں ہو سکے کہ وہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں ہیں۔

سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں افغانستان کی صورتِ حال اور کابل سے بھارتی سفارت کاروں اور شہریوں کو واپس لانے سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت افغانستان سے تعلقات کے معاملے میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر چلے گا۔ بالخصوص کواڈ گروپ کے ممالک کی افغان پالیسی کو دیکھ کر ہی اپنا لائحہ عمل طے کرے گا۔

یاد رہے کہ کواڈ گروپ میں بھارت کے علاوہ امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی حالات بدل رہے ہیں اور دیکھنا ہو گا کہ اگر طالبان حکومت بناتے ہیں تو اس کے بعد ہی بھارت اُن کے ساتھ کوئی رابطہ کرنے کے لیے پالیسی بنائے گا۔

سینئر تجزیہ کار پشپ رنجن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بھارت افغانستان کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ وہ کثیر ملکی سفارت کاری سے دور نہیں رہنا چاہے گا۔ وہ افغانستان میں 400 منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن میں سے کئی مکمل ہو چکے ہیں۔ وہ اب تک تین ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ ایسے میں وہ وہاں کی حکومت سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتا۔

ان کے مطابق افغانستان میں جو نئی حکومت بنے گی بھارت اس سے جلد یا بدیر اپنے رشتے قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم وہ پہلے اس کا جائزہ لے گا کہ امریکہ، روس، ترکی اور ایران وغیرہ کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔

پشپ رنجن کا کہنا تھا کہ حالاں کہ جنوب ایشیائی ملکوں کے تعاون کی تنظیم 'سارک' اس وقت غیر فعال ہے پھر بھی چوں کہ افغانستان بھی سارک کا ایک رکن ملک ہے، اس لیے بھی بھارت اس سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔

ان کے مطابق پاکستان کو سارک میں ایک مضبوط حلیف مل گیا ہے۔ جنوب ایشیائی سیاست پر نظر ڈالیں تو سری لنکا کا جھکاؤ بھی پاکستان کی جانب ہے۔ پاکستان بنگلہ دیش کی بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ممکن ہے کہ آگے چل کر افغانستان 'سارک' فورم میں ایک اہم کردار ادا کرے۔ ایسے میں بھارت اس سے کیسے دور رہ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا میں 'سارک' کے حوالے سے افغانستان کے کردار پر کوئی گفتگو نہیں ہو رہی ہے۔ ممکن ہے کہ حکومت کا جنوب ایشیائی ڈیسک اس پر کام کر رہا ہو۔ لیکن ابھی تک اس پہلو پر بظاہر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

اُن کے بقول بھارتی میڈیا میں اس پر زیادہ بحث ہو رہی ہے کہ اس وقت امریکہ نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ کیوں کہ امریکی انخلا کے اعلان کے بعد انتہائی سرعت سے طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا ہے۔

افغانستان کے ہندوؤں اور سکھوں کی مدد کرنے پر حکومت کی جانب سے زور دینے کے سلسلے میں پشپ رنجن نے کہا کہ 2014 کے بعد بھارت کی پالیسی ہندو برادری کے محور پر گردش کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ خارجہ پالیسی پر بھی ہندو سیاست کا اثر غالب ہوتا نظر آ رہا ہے۔

یاد رہے کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل کو ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ بھارت افغانستان کے ہندوؤں اور سکھوں کے نمائندوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

پشپ رنجن کے خیال میں حکومت کی ہندو مرکوز پالیسی کا اثر ہے کہ جب کابل سے بھارتی سفارت خانے کے عملے کو لے کر ایک طیارہ بھارت آرہا تھا اور اس نے ایندھن لینے کے لیے گجرات کے جام نگر میں لینڈ کیا تو جو لوگ وہاں سے آرہے تھے ان کو ہار پہنائے گئے اور سفارت کاروں نے ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائے۔

ان کے خیال میں سفارت کاری میں یہ سب نہیں چلتا۔ لیکن حکومت کی پالیسی کے نتیجے ہی میں سفارت کاروں نے ایسے نعرے لگائے۔ انہوں نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی ٹوئٹ کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ انہوں نے بھی ہندوؤں اور سکھوں کے رابطے میں رہنے کی بات کہی تھی۔

پشپ رنجن کا کہنا تھا کہ اگلے سال اتر پردیش سمیت پانچ ریاستوں میں انتخابات ہیں اور اسی وجہ سے حکومت افغانستان کے سکھوں اور ہندوؤں کی بات کر رہی ہے تاکہ اس سے انتخابی فائدہ اٹھایا جا سکے۔

ان کے خیال میں ہندوؤں اور سکھوں کی بات کرنا شہریت کے ترمیمی قانون (سی اے اے) سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

ان کے مطابق افغانستان سے ممکنہ طور پر آنے والوں کے لیے حکومت نے جس ای ویزا ضابطے کا اعلان کیا ہے اس کا مقصد بھی سیاسی ہے۔

ان کے مطابق افغانستان میں اتنا کچھ ہو گیا لیکن بھارت کی خارجہ پالیسی کا کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ حکومت نے پہلے سے ہی وہاں سے بھارتی شہریوں کو نکالنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم ایل) پولٹ بیورو کی رکن کویتا کرشنن نے مودی حکومت کی جانب سے اس معاملے کو مبینہ طور پر سیاست زدہ کرنے کی مذمت کی۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ یہ شرمناک بات ہے کہ حکومت افغانستان کے پناہ گزینوں کو انسانی نکتۂ نظر سے نہیں دیکھ رہی ہے بلکہ اس طرح دیکھ رہی ہے کہ وہ مسلمان تو نہیں ہیں۔

ایک سینئر تجزیہ کار سلیم خان کا کہنا ہے کہ حکومت کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ افغانستان میں ہندو اور سکھ پھنسے ہوئے ہیں۔ میڈیا بھی ایسی ہی رپورٹنگ کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ بھارتی حکومت کسی خاص مذہب کی جانب جھکاؤ کے بجائے یہ کہتی رہی ہے کہ ملک میں موجود تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ لہذٰا یہ الزام درست نہیں کہ حکومت صرف ہندوؤں کی بات کرتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG