رسائی کے لنکس

logo-print

نواز شریف کی والدہ کے انتقال پر نریندر مودی کا تعزیتی خط


لاہور میں آمد کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی نواز شریف سے ملاقات۔ 25 دسمبر 2015

بھارت کے وزیراعظم نریندرمودی نے سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو ایک تعزیتی خط لکھا ہے جس میں ان کی والدہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ یہ خط بھارتی ناظم الامور گورو آہلو والیا نے مریم نواز کے ذریعے نواز شریف تک پہنچانے کی درخواست کی۔

بھارتی سفارت خانے نے بھی اس خط کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ خط 27 نومبر کو لکھا گیا اور اسے پاکستان میں بھارتی ناظم الامور گوروآہلو والیا نے 11 دسمبر کو نوازشریف تک یہ خط پہنچانے کے لیے مریم نواز کو خط لکھا، جس میں انہوں نے یہ درخواست کی کہ وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے یہ تعزیتی خط نوازشریف کو پہنچا دیا جائے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خط میں نواز شریف کو لکھا کہ آپ کی والدہ کے انتقال پر بہت افسوس ہوا، 2015ء میں مختصر دورے میں آپ کی والدہ سے ملا تھا، آپ کی والدہ کی سادگی بہت متاثر کن تھی۔

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ میں خدا سے دعاگو ہوں کہ آپ کو اور آپ کے خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی والدہ 22 نومبر کو لندن میں انتقال کرگئی تھیں جس کے بعد ان کا جسد خاکی لاہور پہنچایا گیا اور انہیں جاتی امرا میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔

نواز شریف کے نام نریندر مودی کے خط کا عکس
نواز شریف کے نام نریندر مودی کے خط کا عکس

نواز شریف اور نریندرمودی کے درمیان تعلقات موجودہ حکومت کی نسبت بہتر تھے اور سال 2015 میں نریندر مودی نوازشریف کی نواسی اور مریم نواز کی صاحبزادی کی شادی کے موقع پر اچانک لاہور پہنچے تھے اور شادی میں شرکت کی تھی جس پر پاکستان میں اس وقت کی اپوزیشن کی طرف سے شدید تنقید کی گئی اور نواز شریف کو مودی کا ساتھی اور مودی کا یار کے القابات دیے جاتے رہے۔

سوشل میڈیا پر اسرائیل کا یار نوازشریف کا ٹرینڈ

نریندر مودی کی طرف سے نواشریف کے ساتھ ان کی والدہ کے انتقال کی تعزیت پر سوشل میڈیا پر کوئی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا، البتہ اسرائیلی چینل آئی 24 کے ایک ویڈیو کلپ کے ساتھ 'مریم نواز ایکسپوزڈ' کا ہیش ٹیگ تمام شام پاکستان میں ٹرینڈ کرتا رہا۔

مریم نواز نے اسرائیلی چینل کا ایک ویڈیو کلپ شئییر کیا جس میں برطانوی مسلمان اور تھنک ٹینک سے منسلک نور ڈھری کا ایک انٹرویو نشر کیا گیا تھا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ رواں سال میں ایک اہم پاکستانی حکومتی شخصیت نے تل ابیب کا دورہ کیا ہے، جب کہ اسی انٹرویو میں ان کا کہنا کہ نواز شریف کے دور میں دو مرتبہ پاکستانی وفد اسرائیل گیا تھا۔

اس کے علاوہ بےنظیر بھٹو نے واشنگٹن میں اسرائیلی وفد سے ملاقات کی تھی۔ مریم نواز نے کچھ دیر کے بعد یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیا، لیکن اس کے سکرین شاٹس ٹرینڈ کرنے لگے اور مریم نواز ایکسپوز نواز شریف کا ٹرینڈ بنا دیا گیا۔

اس کے جواب میں اسرائیلی ایجنٹ عمران خان کا ٹرینڈ بھی بنایا گیا اور سوشل میڈیا پر رات گئے اس انٹرویو کے حوالے سے بحث جاری رہی۔

روس میں ایک کانفرنس کے موقع پر نواز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات، 10 جولائی 2015
روس میں ایک کانفرنس کے موقع پر نواز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات، 10 جولائی 2015

پاکستان میں بھارت اور اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہمیشہ سے ایک حساس معاملہ رہے ہیں اور تمام سربراہان ان دونوں ممالک کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے محتاط رہتے ہیں۔

اسرائیل کے ساتھ پاکستان کا کوئی سفارتی تعلق نہیں ہے، اور ماضی میں اس حوالے سے ہونے والی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بھی ایسی ہی صورت حال دیکھنے میں آتی ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

نواز شریف کی سجن جندل کے ساتھ ملاقاتوں پر اعتراض کیا جاتا ہے تو ساتھ ہی عمران خان کی نریندر مودی کے ساتھ تصاویر شئیر کر کے ٹرینڈ بنائے جاتے ہیں۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد وزیراعظم عمران خان پر بھی شدید تنقید کی گئی اور انہیں نریندر مودی کا ساتھی قرار دیا گیا تھا۔ پی ڈی ایم کے حالیہ جلسوں میں بھی انہیں کشمیر فروش کے القابات دیے گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG