رسائی کے لنکس

logo-print

کیا نواز شریف کی بھارت پالیسی نقصان دہ تھی؟


(فائل فوٹو)

پاکستان میں سربراہان مملکت کے دیگر ممالک کے سربراہان کے ساتھ ذاتی نوعیت کے تعلقات کی باتیں نئی نہیں ہیں لیکن جب معاملہ بھارت کا ہو تو پاکستان میں اسے بہت حساس سمجھا جاتا ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ایک سابق سفارت کار کا انٹرویو موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

گزشتہ دور حکومت میں دفتر خارجہ میں اہم عہدوں پر فائز رہنے والی سابق سفارت کار تسنیم اسلم نے نواز شریف کی خارجہ پالیسی کو بھارت نواز قرار دیا۔

یوٹیوب پر دیے گئے ایک انٹرویو میں تسنیم اسلم نے کہا کہ نواز شریف کی بھارت کے حوالے سے پالیسی سمجھوتوں پر مبنی تھی جس کی وجہ ان کے بقول نواز خاندان کے کاروباری مفادات تھے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نئی دہلی گئے تو خارجہ پالیسی کے طے کردہ اُصولوں اور روایات کے برخلاف کشمیری قیادت سے ملاقات نہیں کی۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم 2014 میں پہلی بار وزیر اعظم منتخب ہونے پر نریندر مودی کی حلف برداری میں بھی گئے تھے۔

تسنیم اسلم کے بقول نواز شریف کی جانب سے نئی دہلی دورے پر کشمیری قیادت سے ملاقات نہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے حریت قیادت سے ملاقات کی تو بھارت نے اعتراض کیا۔ اور خارجہ سیکرٹریز کی طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی۔

تسنیم اسلم (فائل فوٹو)
تسنیم اسلم (فائل فوٹو)

اس حوالے سے سابق سینئر سفارت کار علی سرور نقوی کہتے ہیں کہ نواز شریف کی یہ ذاتی سوچ تھی کہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے چاہئیں۔ لیکن وہ اپنی اس سوچ کے بارے میں ریاست کے فیصلہ ساز اداروں کو قائل کرنے میں بار بار ناکام رہے۔

علی سرور کے مطابق نواز شریف کو سوچنا چاہیے تھا کہ نرم رویہ اختیار کیے جانے کے باوجود بھارت بدستور اپنی پاکستان مخالف سخت گیر پالیسی پر قائم رہا۔

'بھارت نواز پالیسی کا نتیجہ ڈان لیکس تھا'

ابھی تسنیم اسلم کے انٹرویو کا ہی چرچہ کم نہ ہوا تھا کہ دفتر خارجہ کے ایک اور سابق سفارت کار عبدالباسط کےاسی حوالے سے دیے گئے ایک بیان نے نئی بحث کو جنم دیا۔

عبدالباسط نے کہا کہ نواز شریف کی سوچ تھی کہ وہ نریندر مودی کے ساتھ ذاتی تعلقات استوار کرکے دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر کرسکیں گے۔

خیال رہے کہ عبدالباسط، نواز شریف کے دور حکومت میں نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر تعینات رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ سے اہم رہا ہے لہذا کشمیری قیادت کے ساتھ رابطہ استوار رکھنا ہماری پالیسی کا حصہ رہا ہے۔

عبدالباسط کا کہنا تھا کہ نئی دہلی میں بطورِ ہائی کمشنر تعیناتی کے دوران انہیں متعدد بار کشمیری قیادت سے ملاقات سے روکا گیا۔ تاہم یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اُصولوں کے خلاف تھا جس پر انہوں نے عمل نہیں کیا اور تحریری احکامات بھجوانے پر اصرار کیا جو کبھی موصول نہیں ہوئے۔

عبدالباسط نے دعویٰ کیا کہ دفترِ خارجہ کی بعض اعلی شخصیات کی جانب سے نواز شریف کی بھارت نواز پالیسی کو آگے بڑھانے کے نتیجے میں ڈان لیکس کا معاملہ سامنے آیا۔

سابق سفارت کار کے مطابق نواز شریف کا بھارت میں کاروبار ہے اور ان کے خاندان کے ایک فرد نے اپنے کاروبار کے سلسلے میں انہیں کئی بار بھارتی شہریوں کو ویزے جاری کرنے کا کہا جس پر انہوں نے بعض شخصیات کو اپنی صوابدید پر ویزے جاری بھی کئے۔

انتہائی بائیں جانب سابق سفارت کار عبدالباسط کشمیری حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کے ہمراہ (فائل فوٹو)
انتہائی بائیں جانب سابق سفارت کار عبدالباسط کشمیری حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کے ہمراہ (فائل فوٹو)

تجزیہ کار علی سرور نقوی کا کہنا ہے کہ اگرچہ نواز شریف کے بھارت کے ساتھ کاروباری مفادات ضرور تھے لیکن وہ اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ نواز شریف نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچایا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم رہے تاہم وہ تینوں بار اپنی مدت مکمل نہیں کر سکے، ماہرین اس کی وجہ ریاستی اداروں کے ساتھ تناؤ قرار دیتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق تنسیم اسلم کی جانب سے عائد کیے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کیا گیا خطاب واضح ثبوت ہے کہ نواز شریف نے کشمیر کا مسئلہ زور و شور سے اُٹھایا۔

ماہرین کے مطابق نواز شریف اپنے دور میں بھارت سے اچھے تعلقات کے خواہاں تھے اور نوے کی دہائی میں بھی انہوں نے بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی تھی۔ جس کے بعد اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے 1999 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور 'اعلان لاہور' طے پایا تھا۔

یاد رہے کے پاکستان کے اخبار 'ڈان' میں شائع ہونے والے ایک خبر کے مطابق پاکستان کی حکومت کے اہم افراد نے فوجی حکام سے کہا تھا کہ کالعدم تنظیموں سے متعلق ان کی پالیسی سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ہزیمت کا سامنا ہے اور ریاست کو اس پالیسی کو ترک کرنا چاہیے۔

اس خبر کو ڈان لیکس کا نام دیا گیا تھا جس کے بعد ماہرین کے بقول نواز شریف حکومت اور فوج کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG