رسائی کے لنکس

logo-print

محسن عباس حیدر کی اہلیہ کا اپنے شوہر پر تشدد کا الزام


اداکار محسن عباس اپنی اہلیہ کے ہمراہ

’رواں سال 20 مئی کو میرے بیٹے کی سرجری سے پیدائش ہوئی تھی جبکہ میں لاہور کے ایک اسپتال میں داخل تھی اور میرا شوہر کراچی میں ایک ماڈل سے افیئر میں مگن تھا۔'

فلم 'نامعلوم افراد 'سے شہرت پانے والے اداکار محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سُہیل نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کی کیے جانے اور ایک لڑکی سے تعلقات رکھنے کا الزام لگایا ہے۔

فاطمہ سُہیل نے فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔

انہوں نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ پہلی بار 26 نومبر کو اس بات کا علم ہوا کہ محسن مجھے دھوکہ دے رہا ہے۔

ان کے بقول 'جب میں نے محسن سے اس بارے میں وضاحت چاہی تو محسن نے مجھ پر تشدد شروع کر دیا، بال پکڑ کر گھسیٹا، مُکے مارے اور مجھے دیوار کی جانب دھکا دے دیا جبکہ میں اس وقت حاملہ تھی۔'

فاطمہ سُہیل نے بتایا کہ ’تکلیف کے باعث مجھے اسپتال لے جایا گیا لیکن پولیس کیس ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر نے میرا معائنہ نہیں کیا جب کہ میں اس حال میں فوری طور پر ایف آئی آر بھی درج نہیں کرا سکتی تھی۔'

فاطمہ نے مزید لکھا ہے کہ کچھ دنوں بعد ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ میرا بچہ محفوظ ہے۔ بچے کی خاطر میں نے ایک مرتبہ اور شادی نبھانے کا فیصلہ کیا۔

’رواں سال 20 مئی کو میرے بیٹے کی سرجری سے پیدائش ہوئی تھی جبکہ میں لاہور کے ایک اسپتال میں داخل تھی اور میرا شوہر کراچی میں ایک ماڈل سے افیئر میں مگن تھا۔'

فاطمہ سُہیل نے مزید لکھا کہ 'اس کے بعد محسن نے ڈپریشن میں مبتلا ہونے سے متعلق پوسٹ شیئر کی تاکہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر سکے۔ وہ ڈیلیوری کے 2 روز بعد ملنے آیا تاکہ تصاویر لے کر ایک مرتبہ پھر عوام کی توجہ حاصل کرسکے۔'

فاطمہ نے فیس بک پوسٹ کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات سے لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتی ہیں۔

پوسٹ کے ساتھ فاطمہ نے کچھ تصاویر بھی جاری کی ہیں جس میں انہوں نے اپنے چہرے اور ہاتھ پر تشدد کے نشانات بھی دکھائے ہیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن عباس حیدر نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد سچ سب کے سامنے لائیں گے۔

محسن عباس اور فاطمہ سُہیل کی شادی 2015 میں ہوئی تھی۔ 2016 میں علیحدگی کی خبریں سامنے آئی تھیں لیکن محسن کی جانب سے اس کی وضاحت میں کہا گیا تھا کہ یہ تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔

ان کے ہاں 2017 میں بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی لیکن اسی سال بچی کا انتقال ہو گیا۔

جنوری 2019 میں محسن نے سوشل میڈیا پر اپنے ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا بھی تذکرہ کیا تھا لیکن کچھ ہی لمحوں بعد انہوں نے یہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی تھی۔

وائس آف امریکہ نے محسن عباس حیدر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG