رسائی کے لنکس

logo-print

موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ منفی سے مستحکم کر دی


فائل فوٹو

بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی 'موڈیز نے پاکستان کی معاشی صورتِ حال کو منفی ریٹنگ سے نکال کر مستحکم قرار دیا ہے۔ موڈیز نے کہا ہے کہ ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بتدریج اضافہ اور خسارے میں کمی ہو رہی ہے۔

نیویارک میں قائم معروف ادارے نے پیر کو اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی ادائیگیوں کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے اور مستقبل میں مزید بہتر ہونے کا امکان ہے۔

موڈیز انویسٹر سروس کے جاری بیان کے مطابق پاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی اور غیر محفوظ قرضوں کی درجہ بندی ’بی تھری‘ کر دی گئی ہے اور آؤٹ لک کو منفی سے مستحکم کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آؤٹ لک میں یہ تبدیلی ادائیگیوں میں توازن، پالیسی ایڈجسٹمنٹ کی حمایت اور کرنسی میں لچک کے باعث کی گئی ہے۔

موڈیز نے کہا ہے کہ ماضی میں روپیہ کمزور ہونے سے قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا تھا۔ لیکن آئی ایم ایف پروگرام کے ذریعے پاکستان کی جاری مالی اصلاحات اور قرضوں کی ادائیگیوں میں استحکام آئے گا۔

کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری پر مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے موڈیز کی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ موڈیز نے پاکستان کا معاشی آؤٹ لک منفی سے بدل کر مستحکم کیا اور کریڈٹ ریٹنگ کی بی-تھری کے طور پر نئے سرے سے تصدیق کی ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معاشی آؤٹ لک کی ’منفی‘ سے ’مستحکم‘ درجے میں ترقی ملکی معیشت کو سنبھالنے اور مستحکم بنانے کی حکومتی کوششوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مستقبل میں تیز تر اور پائیدار معاشی ترقی کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر گامزن رہے گی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی درجہ بندی میں بہتری سرمایہ داروں کا اعتماد بحال کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔

سابق سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کہتے ہیں کہ عالمی مالیاتی ادارے کی جائزہ رپورٹ کے بعد موڈیز کا پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو مستحکم قرار دینا ناگزیر عمل تھا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ادارے کی رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے اور ہمیں استقامت کے ساتھ اسی سمت میں سفر جاری رکھنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ معاشی آؤٹ لک میں استحکام سے سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا ہوگا۔ جس کے نتیجے میں پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

دوسری جانب ماہر معیشت قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ موڈیز معیشت کے عمومی اشاریوں کو دیکھتے ہوئے درجہ بندی کرتا ہے اور معیشت کے وہ پہلو جو اہم تو ہیں لیکن بظاہر نمایاں نہیں، ان پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا معاشی ڈھانچہ کمزور ہے۔ صنعت، زراعت و پیداوار گر چکی ہے۔ لہٰذا معیشت میں بہتری کے لیے معاشی ٹیم کو موڈیز کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ دیرپا معاشی استحکام کی پالیسی کے حوالے سے غیر متعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ موڈیز کی رپورٹ قرض کے حصول یا بانڈز کے اجرا میں شرائط طے کرنے میں آسانی فراہم کرے گی۔

خیال رہے کہ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے رواں برس فروری میں پاکستانی بینکوں کا آؤٹ لک مستحکم سے منفی کر دیا تھا۔

دس ماہ قبل کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے معاشی صورتِ حال دیکھ کر اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست والی صورتِ حال کی طرف جاسکتا ہے۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ 2020 ميں مقامی اور غير ملکی قرضوں کی واپسی کی رقم زرِ مبادلہ کے ذخائر سے زيادہ ہو گی۔

تاہم پاکستان کی معاشی صورتِ حال سے متعلق 10 ماہ پہلے کیے گئے موڈیز کے بیشتر اندیشے غلط ثابت ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG