رسائی کے لنکس

logo-print

گمشدہ طیارہ: زیر آب تلاش کی سرگرمیاں تیز


حکام کا اندازہ ہے کہ ان کے پاس صرف پیر تک کا وقت ہے کیونکہ اس کے بعد بلیک باکس سے سگنل چھوڑنے والے آلے کی بیٹریاں کام کرنا چھوڑ دیں گی۔

ملائیشیا کے گشمدہ مسافر طیارے ایم ایچ 370 کے ملبے کی تلاش کے لیے مزید بحری و ہوائی جہازوں کو سرگرمیوں میں شامل کیا گیا ہے جو جنوبی بحرہند میں ایک دور افتادہ اور وسیع حصے میں مصروف عمل ہیں۔

تلاش کا کام اب زیر آب بھی شروع کردیا گیا ہے۔ آسٹریلوی فضائیہ کے سابق سربراہ انگس ہیوسٹن نے جمعہ کو بتایا کہ امریکی بحریہ کے جہاز "اوشین شیلڈ" کے ذریعے ایسے آلات سمندر زیر آب بھیجے گئے ہیں جو گمشدہ طیارے کے بلیک باکس سے نکلنے والے سگنلز کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔

"اوشین شیلڈ نے تقریباٍ 240 کلومیٹر کے علاقے میں تلاش کا کام کیا اور صرف یہ جہاز ہی اکیلا اس میں شامل نہیں، برطانیہ کا ایک بحری جہاز بھی تقریباً 240 کلومیٹر کا احاطہ کرتے ہوئے اس میں شامل ہے۔"

حکام کا اندازہ ہے کہ ان کے پاس صرف پیر تک کا وقت ہے کیونکہ اس کے بعد بلیک باکس سے سگنل چھوڑنے والے آلے کی بیٹریاں کام کرنا چھوڑ دیں گی۔

تلاش کی سربراہی کرنے والے آسٹریلیا کے جائنٹ ایجنسی کوآرڈینیشن سنٹر کا کہنا ہے کہ جمعہ کو طیارے کا سراغ لگانے کے لیے مختلف ملکوں کے دس فوجی طیارے، چار سول جہاز اور نو کشتیاں شامل کی گئیں۔

تقریباً ایک ماہ ہونے کو آیا ہے لیکن اس گمشدہ طیارے کا کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ حکام تلاش کی کارروائیوں کے علاقے کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ اس وقت لگ بھگ دو لاکھ 17 ہزار مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

جمعرات کو آسٹریلیا کے ایک بحری جہاز نے کچھ سگنلز کی نشاندہی کی تھی جس کے بارے میں خیال کیا گیا کہ یہ بلیک باکس کے ہوں گے۔ لیکن بعد ازاں یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا۔

ملائیشیا کا بوئنگ 777 آٹھ مارچ کو کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے اچانک لاپتا ہو گیا تھا۔ جہاز پر عملے سمیت 239 افراد سوار تھے۔

ملائیشیا کے حکام سمیت تلاش میں مصروف بین الاقوامی تفتیش کار اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ اس جہاز کا ملبہ تلاش کر کے ہی دم لیں گے۔ لیکن بعض حکام کی طرف سے یہ بیان سامنے آ چکا ہے کہ جہاز کے غائب ہونے کا "راز شاید راز ہی رہے۔"
XS
SM
MD
LG