رسائی کے لنکس

logo-print

رواں سال 18 ہزار سے زائد پاکستانی مختلف ملکوں سے ملک بدر


فائل فوٹو

حکام کے مطابق 2017ء میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں 1153 کیسز درج کیے گئے۔

پاکستانیوں کے غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک سفر کے سدباب کے لیے حکومت ایک حکمتِ عملی وضع کر رہی ہے جس میں مسافروں کی معلومات کو یکجا کرنے کے علاوہ نامکمل دستاویزات والے مسافروں کو جہاز سے اتارنے جیسے اقدام بھی شامل ہیں۔

یہ بات قومی اسمبلی میں ایک قانون ساز کی طرف سے پوچھے گئے سوال پر وفاقی وزارتِ داخلہ کی طرف سے تحریری جواب میں کہی گئی۔

وزارت کے مطابق رواں سال اب تک 18677 پاکستانی مختلف ممالک سے ملک بدر ہو کر پاکستان واپس پہنچے اور ان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر 357 مبینہ انسانی اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔

مزید برآں 2017ء میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں 1153 کیسز درج کیے گئے۔

ہر سال پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد مشرق وسطیٰ اور یورپی ممالک سے ملک بدر ہو کر واپس اپنے وطن پہنچتی ہے جس کی وجہ غیر قانونی طور پر ان ممالک میں رہائش اور کام کرنا بتائی جاتی ہیں۔

گزشتہ ماہ بلوچستان کے علاقے تربت سے کم ازکم 20 افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جن کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ یہ لوگ انسانی اسمگلروں کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک جانے والوں میں شامل تھے۔

ان افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری ایک کالعدم بلوچ عسکریت پسند گروپ نے تسلیم کی تھی۔

اس واقعے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد حکام نے ملک کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر کے متعدد ایسے افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو انسانی اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے علاوہ لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک لے جانے کی ترغیب دیتے تھے۔

وزارتِ داخلہ کے تحریری جواب کے مطابق وفاقی تفتیشی ادارے 'ایف آئی آے' کی تمام امیگریشن چوکیوں میں انٹیگریٹڈ بارڈر مینیجمنٹ سسٹم (آئی بی ایم ایس) نصب کر دیا گیا ہے جس سے مسافروں کی گزشتہ سفری معلومات کی تصدیق کے ساتھ ساتھ کسی بھی مسافر پر شک گزرنے سے اس کے بارے میں فوری تصدیق کی سہولت بھی موجود ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG