رسائی کے لنکس

خیبر پختونخواہ میں نوزائیدہ بچوں کی 'شرح اموات میں اضافہ'

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

صوبہ خیبر پختونخواہ میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے کہ اور رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران مختلف سرکاری اسپتالوں میں تین ہزار سے زائد نوزائیدہ بچے موت کا شکار ہوئے۔

صوبائی محکمہ صحت کو دی گئی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری سے مارچ تک محمکے کے پاس 45 ہزار چھ سو بچوں کی پیدائش کا اندراج ہوا تھا جن میں سے 1457 بچے اپنی پیدائش کے پہلے مہینے جب کہ 723 تین ماہ سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ ہے اور اس کی عمومی وجہ زچگی اور پیدائش کے فوراً بعد نگہداشت کی ناکافی سہولتوں کے علاوہ حاملہ خواتین کی نامناسب دیکھ بھال بتائی جاتی ہے۔

نوزائیدہ بچوں کے ماہر ڈاکٹر امین جان گنڈاپور نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ بچوں کی اموات کے اعدادوشمار سرکاری ڈیٹا سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حمل کے دوران خواتین مستند معالج سے باقاعدگی سے مشورہ نہیں کرتیں اور زچگی کے دوران پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے ماہر اور تربیت یافتہ طبی عملے کی کم یابی بھی نوزائیدہ بچے کی زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے۔

"پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بچے پوری معیاد کے نہیں ہوتے او کم وزن ہوتے ہیں ان کو مرنے سے بچانے کے لیے اسپیشل یونٹس چاہیے ہوتا ہے جو یہاں نہیں ہے پھر انفیکشن ایک وجہ ہوتی ہے نوزائیدہ بچوں کی اموات کی۔"

ڈاکٹر گنڈاپور نے کہا کہ صوبے میں نوزائیدہ بچوں کے ماہر ڈاکٹروں کے علاوہ ایسے بچوں کی خصوصی نگہداشت کے لیے بھی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

لیکن محکمہ صحت کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شبینا نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی نسبت صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں سہولتوں میں اضافہ کیا گیا جب کہ زچہ و بچہ وارڈز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG