رسائی کے لنکس

logo-print

متحدہ قومی موومنٹ کے اندر اختلافات میں مزید اضافہ


متحدہ قومی موومٹ کے لیڈر فاروق ستار ایک پریس کانفرنس میں۔ فائل فوٹو

محمد ثاقب

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں دراڑیں اور بھی واضح ہوگئیں۔ پارٹی کی رابطہ کمیٹی نے سینیٹ کے انتخابات کے لئے نام تجویز کرنے کا اختیار پارٹی سربراہ سے واپس لے لیا ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو لکھے گئے خط میں ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کرنے کی تصدیق ہوگئی ہے۔

الیکشن کمشن کو ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر اور رکن قومی اسمبلی کنور نوید کی جانب سے 8 فروری کو ایک خط لکھا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ رابطہ کمیٹی کے 7 فروری 2017 کو ہونے والے اجلاس میں منظور شدہ قرار داد کے مطابق پارٹی کے سربراہ فاروق ستار سے سینیٹ کے آئندہ انتخابات کے لئے نام تجویز کرنے کا اختیار واپس لے لیا گیا ہے۔ رابطہ کمیٹی نے یہ فیصلہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے سینیٹ کے انتخابات کے لئے بھی چار نام تجویز کر دیئے ہیں۔ جن میں خواتین کی جنرل نشست پر نسرین جلیل، ٹیکنو کریٹ کی نشست پر بیرسٹر فروغ نسیم اور عام نشستوں پر امین الحق اور عامر چشتی کا نام شامل ہے۔

پارٹی کے ڈپٹی کنوینر اور رکن قومی اسمبلی کنور نوید کی جانب سے سیکرٹری الیکشن کمشن کو لکھے گئے اس خط میں ایم کیو ایم کے آئین کے آرٹیکل 19 اے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ خط کے مندرجات کے مطابق پارٹی آئین کی شق قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹ اور بلدیاتی اداروں کے لیے ٹکٹوں کے بارے میں ہے۔ جس میں واضح ہے کہ مرکزی رابطہ کمیٹی ہی ان انتخابات کے لیے ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ آئین کے تحت پارٹی کا سربراہ رابطہ کمیٹی کی مرضی کے بغیر ناموں کو حتمی شکل نہیں دے سکتا۔

گزشتہ روز پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کی جانب سے الگ الگ نام تجویز کئے گئے تھے۔ پارٹی میں گزشتہ کافی عرصے سے اختلافات کی خبریں آ رہی تھیں جو اس وقت میڈیا کی زینت بنیں جب ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے کامران ٹیسوری کے نام کو سینیٹ کے انتخابات کے لئے تجویز کیا گیا جس پر رابطہ کمیٹی کی جانب سے شديد مخالفت کی گئی۔ دونوں دھڑوں کی جانب سے اس موقع پر الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ بھی خوب جاری ہے۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارٹی آئین کے تحت اب بھی فاروق ستار کا پلڑہ بھاری دکھائی دیتا ہے۔ فاروق ستار کے قریبی ساتھیوں کے مطابق وہ بطور پارٹی سربراہ رابطہ کمیٹی کو تحليل کرنے پر غور کررہے ہیں۔

اس وقت ڈاکٹر فاروق ستار کو 35 رکنی رابطہ کمیٹی کے کم از کم 12 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ اس فیصلے کو رد کرنے کے لئے دوسرے گروپ کو رابطہ کمیٹی کے دو تہائی ارکان یعنی 25 ارکان کی حمایت درکار ہے لیکن اس وقت ان کے پاس 21 اراکین کی حمایت حاصل ہے جبکہ دو ارکان رابطہ کمیٹی ملک سے باہر مقیم ہیں۔

دوسری جانب پارٹی کی رابطہ کمیٹی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو پارٹی کا نیا سربراہ بنانے پر غور کررہی ہے۔ کئی روز سے جاری اس چپقلش کے باعث ملک کے سب سے بڑے شہر میں سیاسی ہلچل عروج پر ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے اس تمام تر صورت حال کا فائدہ سینیٹ کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور پھر کسی حد تک پاک سرزمین پارٹی کو بھی ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG