رسائی کے لنکس

سینیٹ امیدواروں کے انتخاب پر ایم کیو ایم میں اختلافات


ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے ان اراکین کو معطل کردیا ہے جنہوں نے، بقول ان کے، ’’غیرقانونی اجلاس میں شرکت کی اور غیر قانونی فیصلے کئے‘‘

سندھ کی دوسری بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) میں ایک بار پھر اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ یہ اختلافات اس وقت باہر آئے جب پارٹی آئندہ سینیٹ کے انتخابات کے لئے نام فائنل کر رہی تھی۔

اس دوران، پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی مرضی کے بغیر سینیٹ کے الیکشن کے لئے نام فائنل کیے گئے اور پارٹی کے ڈپٹی کنوینر کامران ٹیسوری کو چھ ماہ کے لئے معطل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے اجلاس کو ’’غیرقانونی‘‘ اور پارٹی آئین سے ’’انحراف‘‘ قرار دیا ہے۔

فاروق ستار نے کہا ہے کہ بطور پارٹی لیڈر فیصلوں کا اختیار انہیں تھا جسے رابطہ کمیٹی کے ارکان نے غلط استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے جن کارکنان نے جو فیصلے کئے وہ تنظیم کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ’’ان کی اجازت کے بغیر اجلاس کیسے بلایا گیا اور فیصلے کیسے کر لئے گئے‘‘۔

ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے ان اراکین کو معطل کردیا ہے، جنہوں نے، بقول ان کے، ’’غیرقانونی اجلاس میں شرکت کی اور غیر قانونی فیصلے کئے‘‘۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے حامی کارکنان کو منگل کے روز شام کو کے ایم سی گراؤنڈ میں طلب کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’جرائم پیشہ افراد کے لیے پارٹی میں اب کوئی جگہ نہیں‘‘؛ اور انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہاتھوں ’’بلیک میل نہیں ہوں گے‘‘۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’کامران ٹیسوری کو میرے سے پوچھے بنا کیسے 6 مہینہ پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا؛ جب کہ سینیٹ الیکشنز کے لئے پارٹی کے ناموں کو فائنل کرنے کا اختیار بھی ان کا تھا۔

دوسری جانب، پارٹی رہنما اور ڈپٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی نے بھی پریس کانفرنس کی اور کہا کہ انہیں ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ ان کی جانب سے سینیٹ کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کامران ٹیسوری کو دینے پر اختلاف ہے۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ’’آخری فیصلےکا اختیار پارٹی کی 32 رکنی رابطہ کمیٹی کو ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی خواہش تھی کہ کامران ٹیسوری کو سینیٹ انتخابات کے لئے پارٹی ٹکٹ دیا جائے، لیکن رابطہ کمیٹی کی اکثریت نے اس کی مخالفت کی ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایم کیو ایم کی تاریخ میں ایم کیو ایم میں نئےشامل ہونے والے رکن کو تنظیمی کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا۔ ایم کیو ایم کی اپنی روایات ہیں, خواہشات کی بنیاد پر عہدے نہیں دیے جا سکتے۔ کامران ٹیسوری کے لئے قوانین کو بھی نرم کیا گیا۔ فاروق ستار نےکامران ٹیسوری کو بہت کم وقت میں اہم عہدے دئیے‘‘۔

پارٹی کے دونوں حلقے، کارکنوں کی اکثریت اپنے ہمراہ ہونے کے دعویدار ہیں۔

کراچی کی اس سب سے بڑی جماعت میں اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ یہ اختلافات 22 اگست 2016 کے بعد دوسری بار کھل کر سامنے آئے ہیں جب پارٹی کی پاکستان میں موجود قیادت نے لندن میں موجود پارٹی کے بانی الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔

الطاف حسین پر اپنی تقریر میں پاکستان، پاکستان فوج اور دیگر اداروں سے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کارکنوں کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا الزام یے۔

اس دوران جماعت کی قیادت، ایم کیو ایم کے بطن سے بننے والی پاک سرزمین پارٹی سے سیاسی اتحاد اور دیگر معاملات پر اختلافات کی خبریں منظر عام پر آتی رہیں۔ لیکن، اب سینیٹ کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ پر بھی اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔

یہ واقعات ماضی کی مضبوط سیاسی جماعت میں دراڑوں کی واضح نشاندہی کرتے ہیں، جس کی پہچان مربوط تنظیمی ڈھانچہ اور نظم و ضبط رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس کا اثر آنےوالے انتخابات پر پارٹی کے ووٹ بینک پر بھی پڑنے کے امکانات ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG