رسائی کے لنکس

logo-print

ایم کیو ایم لندن کے کارکنوں اور پولیس کا آمنا سامنا


متحدہ قومی موومنٹ لندن کے کارکن یوم شہداء کے سلسلے میں’یادگار شہداء‘ پر حاضری کیلئے لیاقت علی خان چوک پہنچے لیکن پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نے آج صبح سے ہی یادگار جانے والے راستے بند کردیئے تھے۔

کراچی کے علاقے عزیزآباد میں نائن زیرو کے قریب لیاقت علی خان چوک (مکا چوک) پر جمعہ کو متحدہ قومی موومنٹ لندن اور پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گی۔

کارکنوں نے مکا چوک پر پارٹی پرچم لہرانے اور یادگار شہدا جانے کی کوشش کی جنہیں قانون نافذ کرنے والوں نے روکا جبکہ ایم کیو ایم کے کچھ کارکنان کو حراست میں لے لیاگیا ۔

متحدہ قومی موومنٹ لندن کے کارکن یوم شہداء کے سلسلے میں’یادگار شہداء‘ پر حاضری کیلئے لیاقت علی خان چوک پہنچے لیکن پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نے آج صبح سے ہی یادگار جانے والے راستے بند کردیئے تھے۔

خواتین سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد لیاقت علی خان چوک پر جمع ہو گئی اور اس نے یادگار شہداء جانے کی کوشش کی تو رینجرز نے انہیں آگے بڑھنے سے روکا جس پر زبردست نعرے بازی شروع ہوگئی۔

کارکنوں نے چوک پر ہی دریاں بچھا کر قرآن خوانی شروع کردی، اس دوران بعض کارکنوں نے لیاقت علی خان چوک پر پارٹی پرچم لگانے کی کوشش کی تو رینجرز اہلکاروں نے آگے بڑھ کر انہیں یادگار سے اتارا اور حراست میں لے لیا۔

اس پر کارکن مزید مشتعل ہو گئے۔انہوں نے زبردست نعرے بازی کی اور دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ پولیس نے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا اور متعدد کارکنوں کو پکڑ لیا۔ اس ساری صورتحال میں علاقے کی تمام دکانیں بند ہو گئیں اور عائشہ منزل سے آنے اور جانے والی ٹریفک معطل ہوگئی۔

اس دوران ایم کیو ایم لندن کے مزید کارکن بھی مکا چوک پہنچ گئے جنہوں نے یادگار پر پوسٹر ز لگا دیئے، جھنڈا بھی لہرانا چاہتے تھے کہ رینجرز اور پولیس اہلکاروں کو دیکھ کرکچھ دیر کیلئے منتشر ہو گئےتاہم کچھ دیر بعد دوبارہ جمع ہوگئے۔

رینجرز کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈئیر نسیم احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ سڑک پر دریاں بچھا کر قرآن خوانی کر رہے تھے، ہمارے پاس کچھ خواتین آئیں اور یادگار شہداء پر قرآن پڑھنے کی اجازت طلب کی جس کی انہیں اجازت دے دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب خواتین واپس گئیں تو وہاں موجود مرد کارکنوں نے سیاسی نعرے لگانے شروع کردیئے اور پارٹی پرچم لہرائے، جس پر پولیس نے ایکشن لیا اور کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔

بریگیڈئیر نسیم کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی کو بھی قرآن خوانی سے نہیں روکا لیکن قرآن پڑھنے کے لئے سڑک موزوں جگہ نہیں۔ قرآن کو سیاسی طور پر استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

بعد ازاں ایم کیو ایم کی ایک خاتون راہنما نے میگا فون پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے کہا ہے کہ کارکن پرامن طور پر منتشر ہوجائیں جس کے بعدکارکن پرامن طور پر اپنے گھروں کو چلے گئے۔

حیدرآباد میں بھی صورتحال کشیدہ
حیدرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنوں نے یوم شہداء کے حوالے سے منعقدہ تقریب کیلئے پکا قلعہ جانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں روکا تو صورتحال کشیدہ ہوگئی، پولیس نے متحدہ کےکچھ کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

کارکنوں نے جن میں خواتین بھی میں شامل تھیں، پکا قلعہ گراؤنڈ میں واقع قبرستان میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے جانے کی کوشش کی۔ اس دوران نعرےبازی کرنے پر پولیس نےکارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی۔

واقعے کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری پکا قلعہ چوک پر تعینات کردی گئی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان
یوم شہداء پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے پی آئی بی میں کے ایم سی گراؤنڈ میں تقریب کا اہتمام کیا، مرکزی راہنماؤں ، شہداء کے لواحقین اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس میں شہداء کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کی گئی۔

XS
SM
MD
LG