رسائی کے لنکس

logo-print

'مشرف کیس کا فیصلہ فوج کے خلاف سازش ہے'


سربراہ ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے سابق صدر اور آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا فیصلہ فوج کے خلاف سازش ہے۔ ایم کیو ایم اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے پر غور کر رہی ہے۔

اسلام آباد میں وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ فیصلہ شخصی انتقام ہے۔ جس کے ذریعے فوج کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "ہم کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ چیلنج کرنے پر زور دیں گے، بصورت دیگر ایم کیو ایم خود فریق بن کر اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر سکتی ہے۔"

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کسی کو ہدف بنا کر یا منتخب کر کے سزا دینا انصاف نہیں ہے۔ ان کے بقول خصوصی عدالت نے مقدمے کے بہت سے پہلوؤں کو نظرانداز کیا۔

ایم کیو ایم کے سربراہ بولے کہ پرویز مشرف کے ساتھ تین نومبر 2007 کے اقدام میں شامل دیگر افراد کا تذکرہ تک عدالتی فیصلے میں موجود نہیں۔

خیال رہے کہ منگل کو سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے آئین شکنی ثابت ہونے پر انہیں آرٹیکل چھ کے تحت سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔

خالد مقبول صدیقی نے فیصلے سے قبل چیف جسٹس سپریم کورٹ آصف سعید کھوسہ کے ایک بیان کا حوالہ دیا۔ جس میں ایک تقریب کے دوران چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ایک سابق آرمی چیف کے کیس کا فیصلہ آنے والا ہے۔ "چیف جسٹس صاحب نے پہلے ہی یہ کیسے کہہ دیا کہ اس فیصلے سے عدلیہ پر لگے داغ دُھل جائیں گے۔"

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ اُن ججز نے پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ دیا۔ جنہوں نے عبوری آئینی حکم (پی سی او) کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججز کی جگہ فائدہ اٹھایا۔

خیال رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 3 نومبر کو آئین معطل کر دیا تھا۔ جس کے باعث عبوری آئینی حکم کے تحت بعض ججز نے حلف لیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ "انہی مفاد اٹھانے والے لوگوں کے ہاتھوں یہ فیصلہ ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ انتقامی کاروائی بھی ہو سکتی ہے۔ شخصی انتقام بھی ہوسکتا ہے اور میں کہنا نہیں چاہتا لیکن اس میں لسانیت کی بو بھی آتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ہمیں اعتراف کرلینا چاہیے کہ ہماری عدالتی تاریخ بہت درخشاں نہیں ہے۔ اور ماضی میں آئین توڑنے کے اقدامات کو انہیں عدالتوں سے تائید ملتی رہی ہے۔

'فوج کا ردعمل فطری تھا'

حکومتی اتحادی جماعت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آئین شکنی کے مقدمے میں خصوصی عدالت کے فیصلے پر فوج کے ترجمان کا بیان فطری تھا۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف ملک کی افواج کے سربراہ رہے ہیں اور فوج میں یہ حساسیت پائی جاتی ہے کہ ان کے سابق چیف کے ساتھ نامناسب سلوک نہ ہو۔

'کراچی 'آئی سی یو' میں ہے'

سندھ میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور حزب اختلاف کی جماعت پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کے درمیان تعاون کے فقدان پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقے 11 سال سے معاشی دہشت گردی کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ "ملکی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو باقی ملک اگر جنرل وارڈ میں ہے تو کراچی ابھی بھی آئی سی یو میں ہے۔"

سربراہ ایم کیو ایم بولے کہ سندھ کے بجٹ کا 95 فی صد کراچی سے حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں اسے صرف 10 فی صد ہی مل پاتا ہے۔

ایم کیو ایم کے سربراہ کہتے ہیں کہ "الیکشن میں کہا تھا کہ آپ نے اگر ہمیں گنا نہیں تو تولنا پرھ جائے گا آج ہم سات اراکین اسمبلی ہیں لیکن گذشتہ اسمبلی کے 24 اراکین سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں"۔

خیال رہے کہ نو سال تک اقتدار میں رہنے والے سابق صدر پرویز مشرف کے ایم کیو ایم کے ساتھ تعلقات کو مثالی قرار دیا جاتا رہا ہے۔

سابق صدر کی جانب سے 2011 میں سیاست میں آنے کے اعلان کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی تھیں کہ شاید وہ ایم کیو ایم کی قیادت بھی کر سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG