رسائی کے لنکس

logo-print

الطاف حسین کی تقارپر پر پابندی، ایم کیو ایم کا بھوک ہڑتال کا اعلان


ایم کیو ایم کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی، ڈاکٹر فاروق ستار نے جمعرات کو کراچی میں ایم کیو ایم کے ’مرکز نائن زیرو‘ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے، بتایا کہ 19 سے 22 فروری تک کراچی پریس کلب کے باہر 12 گھنٹے کی علامتی بھوک ہڑتال کی جائے گی

متحدہ قومی موومنٹ نے پارٹی سربراہ الطاف حسین کی تصویر اور تقاریر نشر کرنے پر پابندی کے خلاف چار روزہ علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آرٹیکل 19کے تحت پابندی ختم کی جائے۔

ایم کیو ایم کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے جمعرات کو کراچی میں ایم کیو ایم کے ’مرکز نائن زیرو ‘پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 19 سے 22 فروری تک کراچی پریس کلب کے باہر 12 گھنٹے کی علامتی بھوک ہڑتال کی جائے گی، جس میں ایم کیو ایم کے رہنما، اراکین پارلیمنٹ اور کارکنان صبح 11 بجے سے رات 11بجے تک بھوک ہڑتال کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ”بطور سیاسی جماعت، متحدہ قومی موومنٹ سمجھتی ہے کہ اس کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔ لاہور ہائیکورٹ نے ہمیں بنیادی حق سے محروم کر دیا ہے۔ جمہوری دور میں ایسا عمل سمجھ سے بالا تر ہے۔ ’بلیک آوٴٹ‘ سے سیاسی خلا پیدا ہوگا، جس سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ ملے گا۔“

ڈاکٹر فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی کے مرکزی رہنما نے آئندہ احتیاط برتنے کا عہد کیا ہے، ’’تاکہ بلاوجہ ملک دشمنی کے الزامات نہ لگیں‘‘۔ انہوں نے اپیل کی کہ آرٹیکل 19کے تحت ایم کیو ایم کے سربراہ کی تقریر اور تصاویر پر عائد پابندی ختم کی جائے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں ایم کیو ایم رہنماؤں نے الطاف حسین پر پابندی کے خلاف ’ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ‘ لندن کے باہر بھی ایک روزہ بھوک ہڑتال کی تھی۔

پابندی کے 6 ماہ
لاہور ہائیکورٹ نے اگست 2015 میں ’’اشتعال انگیز بیانات‘‘ سے متعلق کیس میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تصویر اور تقاریر میڈیا پر نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی جو آج بھی برقرار ہے۔

’آئندہ 15 دن اہم ہیں؟‘
بھوک ہڑتال کا اعلان ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، جس میں عوام سے اپیل کی گئی تھی کہ ’’آئندہ 15 روز اہم ہیں۔ لہذا، اس مدت کے دوران وہ اپنی آمد و رفت میں انتہائی احتیاط سے کام لیں اور 15 روز کیلئے اپنی ضروری ادویات اور روزمرہ استعما ل کی اشیا کا ذخیرہ کرلیں‘‘۔

بیان کا سخت نوٹس
بیان کے بعد پاکستان رینجرز سندھ کے ترجمان کی جانب سے بھی اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ رینجرز حکام نے شہر میں ’’خوف و ہراس اور سراسیمگی پھیلانے کا سخت نوٹس لیا ہے‘‘۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر بھر میں پوری طرح متحرک ہیں اور عوام کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے پوری طرح چوکس ہیں۔

XS
SM
MD
LG