رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیڑھ ارب لوگوں کو کرونا ویکیسن کا 2022 تک انتظار کرنا پڑے گا: تحقیق


فائل فوٹو

کرونا وائرس ویکسین کی پہلی خوراکیں امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں دی جانے لگی ہیں، لیکن ایک نئی تحقیق کے مطابق دنیا کی ایک چوتھائی آبادی تک ویکسین 2022 تک ہی پہنچ پائے گی۔

تحقیق کے مطابق بہترین حالات میں بھی ابھی دنیا کی پوری آبادی کو کرونا ویکسین دینے کے لیے صنعتی استعداد موجود نہیں ہے۔

دنیا کے امیر ممالک نے ان ویکسینز کے تجربات کے نتائج سے بھی پہلے ان کے حصول کے معاہدے کر لیے تھے۔

جب کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ویکسین حاصل کرنے والی ایک پارٹنرشپ ویکسین کے حصول کے لیے ابھی تک کچھ ہی حصہ حاصل کرنے کا معاہدہ کر سکی ہے۔

غیر سرکاری تنظیم "ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز" کی سینئیر ویکسینز پالیسی ایڈوائزر کیٹ الڈر کے بقول ’’دنیا کے غریب ترین علاقوں کی حکومتیں اس وقت کے فرق کے بارے میں پریشان ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کو ویکسین کی ترسیل اور ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی ترسیل کے دوران لگے گا۔‘‘

پچھلے ہفتے فارماسوٹیکل اور بائیو ٹیک پارٹنر فائزر اور بائیو این ٹیک نے برطانیہ میں اپنی ویکسین کی ترسیل شروع کر دی۔ پیر کے روز امریکہ اور کینیڈا میں پہلے مریضوں کو ویکسین لگائی گئی۔

امریکہ اور کینیڈا میں کرونا سے بچاؤ کے لیے فائزر کی ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
امریکہ اور کینیڈا میں کرونا سے بچاؤ کے لیے فائزر کی ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

بائیو ٹیک کمپنی ماڈرنا کی ویکسین کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اس ہفتے کے اختتام پر منظوری ملک جائے گی۔

عالمی ادارہ برائے صحت ان دو ویکسینوں سمیت آکسفورڈ یونیورسٹی اور فارماسیوٹیکل کمپنی ایسٹرا زینکا کے تعاون سے بنائی جانے والی ویکسین کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔

ان ویکسینز کے ٹرائل کے دوران ہی کئی امیر ممالک نے ان کی کروڑوں خوراکیں حاصل کرنے کے لیے اربوں ڈالر کے معاہدے کر لیے تھے۔

تحقیق کے مطابق ویکسینز بنانے والی 13 کمپنیوں سے مختلف ممالک نے 75 لاکھ کے قریب خوراکیں فراہم کرنے کے معاہدے کئے ہیں جن میں سے آدھے سے زیادہ امیر ممالک کو جائیں گی۔

کینیڈا نے اتنی بڑی تعداد میں ویکسین کی خوراکیں حاصل کرنے کے معاہدے کئے ہیں اس کی پوری آؓبادی کو پانچ مرتبہ ویکسین دی جا سکتی ہے۔

کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کی دو خوراکوں کی ضرورت ہو گی۔
کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کی دو خوراکوں کی ضرورت ہو گی۔

امریکہ نے اتنی خوراکوں کے آرڈر دیے ہیں جن سے اس کی آبادی کو ایک مرتبہ ویکسین کے انجکشن لگائے جا سکیں۔ انڈونیشیا اور برازیل اپنی آدھی آبادی کے برابر ہی ویکسین کی خوراکوں کے معاہدے کر پائے ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق ویکسین بنانے والے چند بڑے صنعتکار یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ 2021 کے اختتام تک دنیا کی چھ ارب آبادی کے لیے ویکسین تیار کر سکیں۔ جب کہ اس وقت دنیا کی کل آبادی سات ارب 80 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

اگر یہ صنعت کار اپنے عزم پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تب بھی پونے دو ارب سے زائد افراد تک ویکسین نہیں پہنچ سکے گی۔

ترقی پذیر ممالک تک ویکسین کی رسائی ممکن بنانے کے لیے عالمی ادارہ برائے صحت نے COVAX نام کا سسٹم بنایا ہے۔ اس سسٹم کے تحت جو ملک ترقی پذیر ممالک تک ویکسین کے پہنچنے کے حامی ہیں وہ ایک سے زائد ویکسینز کی پیداوار پر کام کر سکیں گے۔

اس سسٹم کے 184 ممبر ممالک ہیں اور ان میں 92 ترقی پذیر ممالک ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG