رسائی کے لنکس

logo-print

روس 2016ء کے امریکی انتخابات پر اثر انداز نہیں ہوا: روسی ترجمان


فائل

روسی اہلکاروں نے جمعے کے روز اس بات کی تردید کی ہےکہ روس نے 2016ء کے امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ ملر رپورٹ میں جاری کردہ کئی سو صفحات پر مشتمل ثبوت کے بارے میں روس نے کہا ہے کہ رپورٹ میں ’’کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا‘‘۔

ولادیمیر پوٹن کے ترجمان، دمتری پیسکاف نے جمعے کے روز ایک کانفرنس کال میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’ہم اس قسم کے الزامات کو قبول نہیں کرتے‘‘۔

ترجمان نے کہا کہ دو برس تک جاری رہنے والی تفتیش کے آغاز ہی میں روس اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ’’تفتیش کار جو کچھ بھی کرلیں انھیں روسی ساز باز نظر نہیں آئے گی، چونکہ مداخلت ہوئی ہی نہیں‘‘۔

امریکہ میں انٹیلی جنس کمیونٹی میں اتفاق رائے ہے اور ملر رپورٹ میں شائع ہونے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے روس نے کئی قسم کے حربے اور افراد کو استعمال کیا، تاکہ امریکی سیاسی رائے عامہ کو متاثر کیا جا سکے، سیاسی دشمنوں کو نقصان پہنچایا جائے اور ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے آسانی پیدا کی جائے۔

امریکی پروسیکیوٹرز نے مداخلت کے ضمن میں مبینہ کردار ادا کرنے پر 25 روسی شہریوں کے خلاف فرد جرم کا اعلان کیا، جن میں زیادہ تر فوجی اہلکار اور ’’انٹرنیٹ ٹرولس‘‘ اور ساتھ ہی تین روسی ادارے شامل تھے۔
روس کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملر کی رپورٹ ’’درحقیقت کسی دلیل کے نہ ہونے کی تصدیق کرتی ہے کہ روس نے امریکی انتخابات میں مداخلت کی‘‘۔

گذشتہ ماہ جب امریکی اٹارنی جنرل ولیم بر نے ملر تفتیش کا خلاصہ جاری کیا تھا اُس وقت بھی روسی اہلکاروں نے اسی قسم کے رد عمل کا اظہار کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG