رسائی کے لنکس

logo-print

نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے: جسٹس (ر) جاوید اقبال


چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ’’نیب اور معیشت ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں، اور چل رہے ہیں‘‘۔ لیکن، اُنھوں نے کہا کہ ’’نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ جو لوٹ مار کرے گا اسے نیب کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کوئی طاقت نیب کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتی۔‘‘

چیئرمین نیب نے یہ بات جمعرات کے روز ملتان میں کہی۔ انہوں نے نام تو کسی سیاسی جماعت اور کسی سیاسی رہنما کا نہیں لیا۔ لیکن، انہوں نے نیب پر تنقید کا جواب بھرپور انداز میں دیا اور کہا کہ ’’ہماری واحد خواہش ’کرپشن فری‘ پاکستان ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ’’نیب کے خلاف مضموم پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ لیکن، نیب قانون کے مطابق، اپنا کام جاری رکھے گا۔ بدعنوانی نہ ہوتی تو پاکستان کو قرض نہ لینا پڑتا‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’نیب کا قانون اگر کالا قانون ہوتا تو سپریم کورٹ اس کو ختم کر دیتی یا کتنی ہی حکومتیں آئیں وہ اس قانون کو ختم کر دیتیں۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ نیب کے ’پلی بارگین‘ قانون میں بہتری کی گنجائش ضرور ہے۔‘‘

بقول ان کے، "ایک شکایت یہ سامنے لائی جاتی ہے کہ اس قدم کی وجہ سے معیشت پر خراب اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ لہذا، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جناب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، وہ غلط کہتے ہیں۔ ان کو کہنا یہ چاہیے کے نیب اور کرپشن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ چلے گی"۔

ملتان میں نیب کی ایک تقریب کے بعد اپنے خطاب میں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے نیب قانون کا کھل کر دفاع کیا، اور کہا کہ ’’کوئی قانون کالا نہیں ہوتا۔ کالک ان ہاتھوں میں ہوتی ہے جو قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ جب تک قوم کا لوٹا ہوا ایک ایک پیسہ واپس نہیں آ جاتا نیب آرام سے نہیں بیٹھے گا نیب کی کارروائیاں جاری ہیں اور نیب کو کیس بنانے کا شوق نہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ "ہر شام یہی سنا جاتا ہے کہ نیب کالا قانون ہے۔ کوئی یہ نہیں بتاتا کہ جی اس میں کالا کون سی جگہ پر ہے۔ آپ یہ بتائیں کہ اگر آپ کے خیال میں یہ کالا قانون ہے۔ حکومت کو موقع ملا۔ مختلف پارٹیز آتی رہیں۔ مختلف لوگ یہاں رہے۔ دس سال بارہ بارہ سال 18-18 سال۔ اپنے اس کالے قانون کو کیوں ختم نہیں کیا۔ اس لئے ختم نہیں کیا کیونکہ یہ دوسروں پہ لاگو تھا۔ جب آپ پر لاگو ہوا تو آپ نے کہا کہ یہ کالا قانون ہے"۔

ادھر، جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خطاب پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے، معروف کالم نگار خالد مسعود خان کہتے ہیں کہ ’’چیئرمین نیب نے ملتان میں اپنے خطاب میں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے نیب پر لگائے جانے والے الزامات اور تنقید کا جواب دیا ہے۔ اور پیغام یہ دیا ہے کہ نیب اپنی کارروائی جاری رکھے گا۔ اور اس کے خلاف الزامات کا جواب بھی دیا جائے گا‘‘۔

خالد مسعود خان نے کہا کہ "اس میں جواب تو انہوں نے زرداری صاحب کے بیان کو بنیاد بنا کر دیا ہے۔ لیکن یہ اجتماعی طور پر ساری ایک مہم چل رہی ہے۔ نیب کے خلاف بیان بازی کی۔ پنجاب میں اس وقت جو انڈر پریشر نواز شریف فیملی ہے اور سندھ میں زرداری فیملی ہے یہ جواب تو اس کا ہے۔ میں اس میں ایک بات کہنا بڑی ضروری سمجھتا ہوں کہ جو ادارے ہیں، ادارے بیانات سے نہیں کام سے پہچانے جاتے ہیں۔ اور کام سے ہی پہچانا جانا چاہئے۔ تو میرا ذاتی مؤقف یہ ہے کہ نیب کو اس بیان بازی میں نہیں پڑنا چاہئے۔ اور کام لگن اور یکسوئی کے ساتھ کرنا چاہئے اور اسے منطقی انجام تک پہنچانا چاہئے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG