رسائی کے لنکس

logo-print

چیئرمین نیب کا اسد منیر کیس کی تحقیقات خود کرنے کا فیصلہ


بریگیڈیر (ریٹائرڈ) اسد منیر، فائل فوٹو

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے پاکستانی فوج کے سابق سینئر افسر اور بعد میں کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے منسلک بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) اسد منیر کی مبینہ خودکشی کی انکوائری خود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نیب کے اعلامیہ کے مطابق چیئرمین نے تمام متعلقہ ریکارڈ نیب راولپنڈی سے فوری طور پر طلب کر لیا ہے تاکہ قانون کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

خیال رہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی (آئی ایس آئی ) سے منسلک رہنے والے بریگیڈیئر (ر) اسد منیر نے 14 مارچ کی شب مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی اور ان کی نعش کے پاس سے ملنے والے ان کے مبینہ خط میں نیب کی طرف سے ہراساں کیے جانے کی شکایت کی گئی تھی۔

مبینہ خودکشی سے ایک روز قبل ہی اسد منیر کے خلاف نیب نے بدعنوانی کا ریفرنس دائر کیا تھا اور ان کے خاندان کے افراد نے دعوی کیا تھا کہ اسد منیر نیب تحقیقات کی وجہ سے پریشان تھے اور انہوں نے مذکورہ خط خود ہی تحریر کیا تھا۔

تاہم اسد منیر کے جسد خاکی کا پوسٹ مارٹم نہ ہونے کی وجہ سے قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور نہ ہی ان کے اہل خانہ نے کوئی مقدمہ درج کرایا تھا۔

بعد ازاں اسد منیر کا خط جس میں نیب کے رویے پر تنقید کی گئی تھی سپریم کورٹ کو موصول ہونے پر چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین نیب سے پندرہ دن میں تفصیلات طلب کیں تھیں۔

تاہم نیب اعلامیہ میں یہ واضع نہیں کیا گیا کہ چیئرمین نیب کا خود سے اس معاملے کی تحقیقات کرنا کیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نوٹس لیے جانے کا نتیجہ ہے یا نیب کا انفرادی فیصلہ۔

اسد منیر کے خلاف نیب میں بطور ممبر اسٹیٹ کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد میں قواعد و ضوابط کے خلاف ایک پلاٹ کو بحال کرنے کی تحقیقات چل رہی تھیں اور خود کشی سے ایک روز قبل ہی نیب نے اپنے اعلامیہ میں اسد منیر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسد منیر ماضی میں آئی ایس آئی کے علاوہ ملٹری انٹیلی جینس سے بھی منسلک رہے اور ٹی وی مذاکروں میں بطور تجزیہ کار رونما ہوا کرتے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG