رسائی کے لنکس

logo-print

قندیل بلوچ کیس، 20 سے زائد گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونا باقی


ملتان سماعت

ایم جے گوپانگ

پاکستان کی معروف ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کو دو سال دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، 54 بار اس کی تاریخ پڑ چکی ہے۔ لیکن، ابھی تک اس کی سماعت مکمل نہیں ہوپائی۔ پراسیکیوشن کے مطابق، ابھی 20 سے زیادہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونا باقی ہیں۔

قندیل بلوچ، 15 جولائی سنہ 2016 کو ملتان کے علاقے مظفر آباد کے علاقے میں قتل ہوئیں۔ پولیس نے ان کے والد ملک عظیم بخش کی رپورٹ پر ایک مقدمہ درج کیا۔ کچھ ملزم گرفتار ہوئے اور کچھ کی ضمانت ہو گئی۔

اس کیس کا چالان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ملتان کی عدالت میں پیش کیا گیا اور ان دنوں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ملتان اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔ نو ستمبر کو اس کیس کی اب تک ہونے والی آخری سماعت میں واردات کا نقشہ بنانے والے عمر حیات نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

یہ کیس اتنا طویل کیوں ہو رہا ہے؟ اور اب تک اس کیس میں کیا ہوا ہے؟ یہ سوال جب ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر سید سلیم بخاری سے کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں ابھی کئی گواہان کے بیان ریکارڈ ہونا باقی ہیں اور اس کام میں دو ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

بقول اُن کے، "اس میں جو اہم ملزمان ہیں ان میں مفتی عبدالقوی صاحب ہیں اور وسیم ہے، حق نواز ہے، عبدالباسط ہے اور اسلم شاہین ہے جن کے خلاف اس وقت کارروائی ہو رہی ہے۔ مفتی قوی صاحب کی گرفتاری کے بعد ضمانت ہوئی تھی جس کے بعد ان کی دفعہ 173 کی رپورٹ درج کی گئی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ ملزمان کی اعانت کی ہے۔ مفتی صاحب کا چالان آیا تھا اور ان پر دوبارہ فرد جرم عائد کی گئی۔ تاخیر ملزمان کی طرف سے ہو رہی ہے وہ تعاون نہیں کر رہے"۔

اس کیس کی اب تک 54 بار سماعت ہوچکی ہے اور ابھی یہ کیس چلنا ہے۔ گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے ہیں اور ان پر جرح بھی باقی ہے۔ کیس کے مدعی اور قندیل بلوچ کے والد ملک عظیم بخش ماہڑا کے وکیل صفدر شاہ کبھی اس کیس میں اب تک سماعت سے مطمئن نظر آتے ہیں اور کبھی انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ ملک عظیم بخش اپنے بیٹوں کے بارے میں کسی وقت کیس میں نرم رویہ اختیار کرسکتے ہیں اور ایسا وہ اپنی اہلیہ یعنی قندیل کی والدہ کا دباؤ پر کر سکتے ہیں اور اس کی وجہ شاید اپنے بیٹوں کو بچانے کی کوشش ہو۔

اُنھوں نے بتایا کہ "یہ تین چار ماہ کے بعد ختم ہوجائے گا اور پھر میں وہ بات کرونگا میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ہوگا وہ ہوگا پھر وہی بات کہ مدعی سنجیدہ رہا مخلص رہا تو سزائیں ہوں گی کسی کو پھانسی ہوگی تو کسی کو قید ہوجائے گی جس طرح کسی کو دس سال، کسی کو آٹھ سال تو کسی کو بارہ سال قید ہوجائے گی۔ اگریہ اپنی بلوچی روایات کے مطابق چلے گئے اور کوئی فیصلہ کرلیا تو کئی ملزم بری ہو سکتے ہیں۔"

اس کیس کے ایک اہم ملزم مرکزی روئت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مفتی عبدالقوی ہیں جن کے ساتھ قندیل بلوچ کی سیلفی بھی سامنے آئی تھی۔ ان کا بطور اعانت جرم کے ملزم کے طور پر بھی ضمنی چالان پیش کیا جا چکا ہے۔ ملزم کے طور پر وہ گرفتار بھی رہے اور ان کی ضمانت بھی ہو گئی تھی۔ اس کیس میں ان کا دفاع کرنے والے، حاجی اسلم کے مطابق مفتی عبدالقوی کے خلاف استغاثہ کا کیس کمزور ہے۔ اگر کیس کی سماعت تیزی سے نہیں ہو رہی تو اس میں قصور ان کا نہیں پراسکیوشن کا ہے۔

سید سلیم بخاری نے بتایا کہ "شہادت تو پراسیکیوشن نے دینی ہے۔ انہی پر منحصر ہے کہ شہادت کتنے دنوں میں مکمل ہو گی۔جہاں تک ہماری بات ہے تو کوئی بھی ایسی تاریخ نہیں ہے جس میں پیش نا ہوئے ہوں۔ ہم عدالت میں ہمیشہ آتے ہیں جب بھی وہ شہادت دیں گے ہم جراھ کریں گے اور اس کے بعد پراسیس مکمل ہوجائے گا۔"

پولیس تھانہ مظفر آباد نے قندیل بلوچ کے قتل کے الزام میں اس کے بھائی محمد وسیم اور کزن حق نواز کو پہلے ہی جیل میں ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ دو بھائی اسلم شاہین اور محمد عارف کے علاوہ مفتی عبدالقوی اور عبدالباسط کے خلاف اعانت جرم کا الزام ہے۔ جس میں اسلم شاہین، مفتی عبدالقوی اور عبدالباسط ضمانت پر ہیں۔ لیکن وہ عدالت میں بھی پیش ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم بھائی محمد عارف کو پولیس نے پہلے ہی اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG