رسائی کے لنکس

عدالت نے پولیس کو اس مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے چالان جلد از جلد عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ملتان پولیس ننے سوشل میڈیا کی معروف ماڈل قندیل بلوچ کے مقدمہٴقتل میں نامزد ملزم مفتی عبدالقوی کو گرفتار کر لیا ہے۔

ملتان کی ڈسٹرکٹ اور سیشن جج کی عدالت نے بدھ کو ان کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد عبدالقوی گرفتاری سے بچنے کے لیے فرار ہو گئے تھے۔

ملتان پولیس کے ایک افسر نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ فرار ہونے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی پولیس نے عبدالقوی کو مظفر گڑھ شہر سے گرفتار کرلیا۔

واضح رہے کہ ملتان کے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے گزشتہ ہفتے عبدالقوی کے قابل ضمانت ورانٹ گرفتاری جاری کیے تھے تاہم انہوں نے ملتان کی ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالت سے 17 اکتوبر تک عبوری ضمانت حاصل کر لی تھی۔

عبدالقوی منگل کو قندیل کے مقدمۂ قتل کے سلسلے میں پہلی بار ڈسٹرکٹ اور سیشن جج چوہدری امیر خان کی عدالت میں پیش ہوئے تھے اور انہوں نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ تاہم عدالت نے اس معاملے کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی تھی۔

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے پولیس کے ایک افسر نور اکبر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بدھ کو جب عدالت نے مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع کی تو عبدالقوی کے وکیل نے ان کے ضمانت میں توسیع کے حق میں دلائل دیے جس کے بعد عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ تھوڑی دیر کے بعد سنایا جائے گا۔

اس دوران نور اکبر کے بقول عبدالقوی کسی کو بتائے بغیر کمرہ عدالت سے چلے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے ان کی غیر موجودگی میں ان کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پولیس کو اس مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے چالان جلد از جلد عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

نور اکبر نے کہا کہ ضمانت مسترد ہونے کے بعد عبدالقوی کو پولیس کے سامنے خود پیش ہو جانا چاہیے تھا۔ تاہم ان کے بقول عبدالقوی نے ایسا نہیں کیا اور اس لیے پولیس یہ سمجھتی ہے کہ وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے فرار ہوئے تھے۔

ضمانت مسترد ہونے کے بعد پولیس نے مفتی عبدالقوی کی رہائش گاہ اور ان کے مدرسے پر چھاپے بھی مارے تھے لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے۔

واضح رہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وڈیوز اور متنازع بیانات سے شہرت پانے والی ماڈل قندیل بلوچ کو گزشتہ سال جولائی میں ملتان میں ان کے گھر پر ان کے بھائی وسیم نے میبنہ طور پر غیر ت کے نام پر قتل کر دیا تھا۔

قندیل بلوچ نے جون 2016ء میں مذہبی رہنما مفتی عبدالقوی سے ایک ملاقات کے دوران بنائی گئی وڈیوز اور تصاویر کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری کیا تھا، جس کی وجہ سے کئی دنوں تک اس معاملے کا میڈیا پر چرچا رہا اور مفتی عبدالقوی کو بھی خفت اٹھانی پڑی تھی۔

پولیس کے مطابق قندیل بلوچ کے والد نے قتل کی 'ایف آئی آر' میں مفتی عبدالقوی سمیت چار دیگر افراد کو بھی ملزم نامزد کیا تھا۔

تاہم عبدالقوی نے بدھ کو عدالت کے سامنے قندیل کے قتل میں کسی طور بھی ملوث ہونے کی تردید کرتے اسے جھوٹا الزام قرار دیا۔

مفتی عبدالقوی مرکزی رویت ہلال کمیٹی میں شامل تھے اور وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے رکن بھی تھے۔

تاہم قندیل بلوچ کے ساتھ ان کی وڈیوز اور تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد تحریک انصاف نے ان کی رکنیت ختم کر دی تھی جب کہ رویتِ ہلال کمیٹی سے بھی انہیں سبکدوش ہونا پڑا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG