رسائی کے لنکس

logo-print

چین: 'سنکیانگ میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں'


فائل فوٹو

چین کے جاری کردہ وائٹ پیپر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنوب مغربی نیم خود مختار علاقہ سنکیانگ تاریخی طور پر ابتداء سے ہی مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا مسکن رہا ہے۔ یہاں کی ہم آہنگی صدیوں پرانی اور مثالی ہے۔

چین کی سرکاری کونسل برائے اطلاعات سے جاری وائٹ پیپر 'ہسٹاریکل میٹرز کنسرنگ سنکیانگ' کے مطابق صوبے میں اسلام، بودھ ازم، تاؤ ازم ، کیتھولک، پروٹیسٹنٹ اور ایسٹرن اورتھو ڈوکس چرچ کے ماننے والے آباد ہیں۔

یہاں مساجد، گرجا گھر، بودھ اور تاؤ ازم کے مندروں سمیت مذہبی سرگرمیوں کے 24 ہزار مراکز ہیں جن میں عملے کی تعداد 29 ہزار 300 ہے۔

وائٹ پیپر کے مطابق، سنکیانگ نے تمام مذاہب کو ہمیشہ یکساں حیثیت دی ہے جس میں پسند، ناپسند اور کسی بھی قسم کا امتیاز نہیں برتا جاتا۔

پیپر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ کسی بھی مذہب کو کسی دوسرے مذہب پر برتری یا فوقیت دینے کی اجازت نہیں۔ مذہب کو ماننے والے اور نہ ماننے والے تمام افراد کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔

حکام کے مطابق، قانون کی خلاف ورزی کرنے والا خواہ کسی بھی مذہب، کسی بھی سماجی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو اسے قانون کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔

وائٹ پیپر میں کہا گیا ہےکہ چین مختلف ثقافتی اور مذہبی اکائیوں پر مشتمل متحد ملک ہے۔

سنکیانگ میں بسنے والے مختلف مذہبی اور ثقافتی گروپ طویل عرصے سے چینی قوم کا حصہ ہیں۔ تاریخی طور پر سنکیانگ کی ترقی چین سے جڑی ہوئی ہے۔

سنکیانگ میں ویغور نسلی گروپ طویل عرصے کی ہجرت اور انضمام کے بعد وجود میں آیا۔ یہ چینی قوم کا حصہ ہے۔

وائٹ پیپر کے مطابق، سنکیانگ میں مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں۔ چینی تہذیب سے ہم آہنگ مختلف نسلی اور ثقافتی گروپ ترقی کر رہے ہیں۔ ان کی جڑیں چینی ثقافت سے جڑی ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ رواں برس کے شروع میں انسانی حقوق کی 16 بڑی تنظیموں نے مطالبہ کیا تھا کہ چین نے سنکیانگ میں 10 لاکھ ویغور نسل کے مسلمانوں کو بڑے پیمانے حراستی کیمپوں میں رکھا ہوا ہے، اس کی بین الاقوامی تحقیقات ہونی چاہیے۔

ان تنظیموں نے انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی کونسل پر زور دیا تھا کہ وہ ایک قرار داد منظور کرے جس کے تحت سنکیانگ میں انسانی حقوق کی صورت حال معلوم کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی مشن قائم کیا جائے۔

گزشتہ ماہ امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ ویغور مسلمان اقلیت سے چین کی بدسلوکی کے باعث موجودہ عالمی تاریخ میں انسانی حقوق کا انتہائی سنگین بحران پیدا ہوا ہے۔

واشنگٹن میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ چین ہمارے عہد کے انسانی حقوق کے بحرانوں کی بدترین مثال ہے۔ یہ صورت حال اس صدی کا ایک بدنما داغ ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں سنکیانگ میں روزہ رکھنے پر پابندی اور سزاوں کی رپورٹس سامنے آئی تھیں جس پر پاکستان میں چین کے سفارت خانے میں ڈپٹی چیف آفیسر لیجئین زہاؤ کا کہنا تھا کہ چین نے سنکیانگ کی ویغور کمیونٹی پر رمضان کے دوران مذہبی رسومات پر جزوی پابندی عائد کی ہے۔ روزہ رکھنے پر مکمل پابندی نہیں ہے۔

ڈپٹی چیف آفیسر لیجئین زہاؤ کا دعویٰ تھا کہ سنکیانگ میں مکمل پابندی نہیں ہے یہ مغربی پروپیگنڈا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG