رسائی کے لنکس

logo-print

ممتاز قادری کی تدفین پرامن طریقے سے مکمل، سکیورٹی چوکس


ممتاز قادری کی نماز جنازہ منگل کو راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر کسی بھی نا خوشگوار واقع سے نمٹنے کے لیے ملک بھر خصوصاً راولپنڈی میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل پر سزائے موت پانے والے ممتاز قادری کی نماز جنازہ منگل کو راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

اس موقع پر کسی بھی نا خوشگوار واقع سے نمٹنے کے لیے ملک بھر خصوصاً راولپنڈی میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ لیاقت باغ کی طرف جانے والے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق کئی دیگر علاقوں سے بھی اضافی نفری کو مری روڈ اور اُن راستوں پر تعینات کیا گیا تھا جہاں سے جنازہ گزرنا تھا۔

کسی بھی ممکنہ بڑے احتجاج کے خطرے کے سبب صورت حال تمام دن کشیدہ رہی ہے۔

اس تناظر میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں کئی نجی اسکول منگل کو بند رہے جب کہ راولپنڈی میں تاجر تنظیموں نے تاجروں سے اپنی دکانیں بند رکھنے کی اپیل کر رکھی تھی۔

وفاقی دارالحکومت میں بھی اہم سرکاری عمارتوں اور غیر ملکی سفارت خانوں والے علاقے ریڈ زون کو عام لوگوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

ایلیٹ پولیس کے سابق اہلکار ممتاز قادری کو پیر کی صبح راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پھانسی دی گئی تھی، جس کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والی مرکزی شاہراہ کے علاوہ، راولپنڈی کے معروف مری روڈ اور ملککے کئی دیگر شہروں میں احتجاج کر کے مظاہرین نے سڑکیں بند کر دی تھیں۔

احتجاج کے باعث سڑکیں بند ہونے سے ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔

راولپنڈی کے علاوہ لاہور اور کراچی میں بھی ممتاز قادری کو پھانسی دینے کے خلاف محدود پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

ممتاز قادری پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے سرکاری محافظوں میں شامل تھا اور نے اُس نے گورنر کو جنوری 2011ء میں اسلام آباد میں اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا جب سلمان تاثیر ایک ریسٹورنٹ سے نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔

پنجاب کے اُس وقت کے گورنر سلمان تاثیر نے 2010 میں ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے ایک مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد اُس خاتون سے جیل میں ملاقات کی تھی اور توہین مذہب سے متعلق موجودہ قوانین میں ترمیم کے حق میں بیان دیا تھا۔

ممتاز قادری نے گرفتاری کے بعد اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ اُس نے سلمان تاثیر کو اس لیے قتل کیا کیوں کہ اُنھوں نے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کی حمایت کی تھی۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے 2011ء میں ممتاز قادری کو دو بار سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

بعد میں سپریم کورٹ نے بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

XS
SM
MD
LG