رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب مسلم امریکی خواتین ارکان کانگریس سے پریشان


امریکی ایوان نمائندگان کی رکن رشیدہ طلیب اور الہان عمر۔ فائل فوٹو

سعودی عرب اُن دو امریکی مسلمان خواتین کےخلاف اپنی سرزمین سے سیاسی حملے کرنے پر پچھتا رہا ہو گا جو گزشتہ وسط مدتی انتخابات میں امریکی کانگریس میں نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو گئیں۔

ان دو خواتین میں سے ایک مینی سوٹا کی الہان عمر ہیں جو ایوان نمائندگان کے اُس پینل میں نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں جو سعودی عرب کو امریکی اسلحے کی فروخت روکنے کا اختیار رکھتی ہے۔

صومالی نژاد امریکی خاتون الہان عمر گزشتہ ہفتے ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کی رکن بن گئیں جبکہ اُن کی ایک اور ساتھی مشی گن سے تعلق رکھنے والی راشدہ طلیب کو تیل سے مالا مال ملک سعودی عرب میں سرکاری کنٹرول کے تحت چلنے والے میڈیا میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ اُن دانشوروں اور تبصرہ نگاروں نے بھی اُن پر شدید تنقید کی ہے جو سعودی شاہی خاندان کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کی رکن بننے کے بعد الہان عمر نے کہا کہ وہ سعودی عرب جیسے ملکوں کو اسلحے کی فروخت روکنے کے لئے کام کریں گی جو انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ کہلانے والی ان دو خواتین پر تنقید گزشتہ وسط مدتی انتخابات میں کانگریس میں نشست جیتنے کے باوجود کم نہیں ہوئی ہے۔ وہ امریکی کانگریس کی رکن بننے والی پہلی مسلمان خواتین ہیں۔ ان دونوں خواتین سمیت امریکی کانگریس میں پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے ارکان کانگریس اور ڈیموکریٹک پارٹی میں تبدیلیاں لانے کے خواہاں ہیں۔

ایک سعودی سفارت کار نے وسط مدتی امریکی انتخابات کی رات، ایک ٹویٹ کے ذریعے الہان عمر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خلیج کی ریاستوں کی مخالفت کریں گی اور وہ ایسے سیاسی اسلام کے نظریات پر کاربند ہیں جو اخوان المسلمین کی نمائندگی کرتا ہے۔

سعودی شاہی خاندان کے رشتہ داروں کی طرف سے تشکیل دیے گئے نیوز نیٹ ورک ’’العریبیہ‘‘ نے گزشتہ ماہ ایک مضمون شائع کیا تھا جس میں کہا گیا کہ ان دو خواتین کے امریکی ایوان نمائندگان میں نشست جیتنے کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب کے ایسے مخالفین امریکی سیاست کا حصہ بن گئے ہیں، جو اخوان المسلمین کے نظریات کے پابند ہیں اور یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایسی ہی تنقید خلیج میں سعودی عرب کے اتحادی ملک متحدہ عرب امارات میں بھی کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب اور خلیج کے ممالک میں ’اخوان المسلمین کو ایک سیاسی تحریک گردانا جاتا ہے اور ان ممالک میں اس پر مکمل پابندی عائد ہے۔

فلسطینی نژاد رشیدہ طلیب نے جمعرات کے روز اخبار ’دی انٹر سیپٹ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل یا کسی بھی ایسے ملک کو فوجی امداد فراہم کرنے کی حمایت نہیں کریں گی جو برابری اور انصاف کے اصولوں پر کاربند نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکی فوجی امداد کو ایسے ممالک میں شہری حقوق کی پاسداری کرنے کی ترغیب دینے کے لئے استعمال کیا جانا چاہئیے اور اگر ہم اسرائیل، سعودی عرب اور ایسے دیگر ممالک کے متعلق یہ حکمت عملی نہیں اپنائیں گے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG