رسائی کے لنکس

logo-print

ایران، ملائیشیا، ترکی اور قطر کا باہمی تجارت کے لیے سونا استعمال کرنے پر غور


ملائیشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اظہار خیال کر رہے ہیں جبکہ ان کے دائیں جانب ایران کے صدر حسن روحانی اور بائیں جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوان بیٹھے ہیں

ایران، ملائیشیا، ترکی اور قطر نے باہمی تجارت کے لیے سونا استعمال کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ مستقبل میں معاشی پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے سونے اور مختلف برآمدات کے بدلے دیگر اشیاء کی درآمد (بارٹر سسٹؐم) پر غور کیا جا رہا ہے۔

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں جاری اسلامک سمٹ کے آخری روز اپنے خطاب میں وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتر محمد نے ایران اور قطر کی بین الاقوامی معاشی پابندیوں کا مقابلہ کرنے پر تعریف کی۔

ڈاکٹر مہاتر محمد کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ وہ مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے خود انحصاری کی طرف بڑھیں۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ کچھ اقوام یک طرفہ طور پر سزا جیسے اقدامات لاگو کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ملائیشیا سمیت دیگر ممالک کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ اقدامات ان کے خلاف بھی ہو سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکہ کے اتحادی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور شام نے قطر سے گزشتہ ڈھائی سال سے سفارتی تعلقات منقطع کیے ہوئے ہیں۔ ان مسلم ممالک نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا تھا تاہم قطر کی جانب سے اس کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

دوسری جانب ایک اور مسلم اکثریتی ملک ایران کے خلاف امریکہ گزشتہ ایک برس میں کئی پابندیاں عائد کر چکا ہے جس سے اس کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسلامک سمٹ کے آخری روز خطاب میں ملائیشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کا مزید کہنا تھا کہ یہ تجویز دی جا چکی ہے کہ سونے کے دینار اور بارٹر سسٹم کے تحت باہمی تجارت کے خیال پر دوبارہ غور کیا جائے۔

واضح رہے کہ سونے کا دینار زمانہ قدیم میں عرب ممالک میں تجارت کے لیے استعمال ہونے والے سونے کے سکے کو کہا جاتا تھا۔

اس تجویز کے حوالے سے ڈاکٹر مہاتیر محمد کا مزید کہنا تھا کہ ہم بہت سنجیدگی سے اس پر سوچ رہے ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد اس حوالے سے کوئی طریقہ کار وضع کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔

اس کانفرنس میں اس مسلم ممالک کے سربراہان نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ باہمی تجارت کو مزید فروغ دینے کی کوشش کے ساتھ ساتھ تجارت ایک دوسرے کی کرنسی (یعنی مقامی کرنسی) میں کی جائے۔

اس اسلامی سمٹ کو سعودی عرب کی جانب سے نہ صرف نظر انداز کیا گیا بلکہ بعض ممالک کی جانب سے سعودی عرب پر الزام عائد کیا گیا کہ ریاض نے دیگر مسلم ممالک کو اس میں شریک ہونے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جبکہ سعودی عرب نے اس کی تردید کی۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کی زیر اثر مسلم ممالک کی تنظیم اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے متبادل کے طور پر یہ سمٹ کی جا رہی ہے۔ دنیا کے 57 مسلم اکثریتی ممالک او آئی سی کے رکن ہیں۔

ملائیشیا کے مطابق کوالالمپور میں ہونے والی اسلامی سمٹ میں تمام 57 اسلامی ممالک کے سربراہان کو مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم اس میں 20 ممالک شریک ہوئے۔

سمٹ کے چوتھے اور آخر روز ان 20 ممالک کی جانب سے بھی کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ملائیشیا میں ہونے والی اس سمٹ میں مسلمانوں کو متاثر کرنے والے مسائل کو زیر بحث لایا گیا جن میں فلسطین، کشمیر، میانمار کے روہنگیا اور چین کے علاقے سنکیانگ کے مسلمانوں کو درپیش مشکلات شامل تھیں۔

وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ خدشات موجود ہیں کہ غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ان کے معاشروں میں مدغم ہو جائیں۔

انہوں نے بھارت میں بنائے گئے شہریت کے نئے قانون کو بھی بدقسمتی سے تعبیر کیا۔ خیال رہے کہ اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے ان غیر مسلم افراد کو بھارت کی شہریت دی جائے گی جو 2014 سے قبل وہاں منتقل ہوئے اور چھ سال بھارت میں گزارے۔ تاہم مسلمان اس قانون کو امتیازی قرار دے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG