رسائی کے لنکس

'چین میں ایغور اماموں کو ہراساں اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے'


نیو یارک میں اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے مظاہرہ۔ (فائل)

چین کے سنکیانگ صوبے میں لاکھوں مسلم ایغور آباد ہیں۔ چینی حکومت مساجد کے امام اور دیگر مسلمان عالموں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہتی ہے اور ان کے خاندان والوں کو ہراساں کرتی ہے۔ ناروے میں قائم ایغور ایڈوکیسی گروپ نے ایسے مظالم کے بارے میں وی او اے سے بات کی ہے۔

ایغور ایڈوکیسی گروپ نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ 2016 سے اب تک چینی حکومت 518 اماموں اور مذہبی رہنماؤں کو گرفتار کر چکی ہے۔ ان میں ایسے امام بھی شامل ہیں جن کو چین کی حکومت نے تربیت اور ملازمت دی اور اب ان کو قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑ رہی ہیں۔ بعض کیمپوں میں حراست کے دوران ہلاک ہو گئے۔

امام عبدالکریم میمت کو 2017 میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ بات مکہ میں مقیم ان کی بیٹی نے بتائی۔ ان کی بیٹی نے وی او اے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چینی حکام پہلے تو ان کے والد کے بارے میں اطلاعات چھپاتے رہے مگر بعد میں مقامی حکام سے پتا کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ جیل میں ہیں۔

اکسٹھ سالہ امام عبدالکریم میمت کو چین کی حکومت نے ملازمت دی تھی اور یہ ینگی سار کاؤنٹی کی مسجد میں امامت کرتے تھے۔ ان کے خاندان والے چینی حکام کے اس الزام کی تردید کرتے ہیں کہ وہ انتہا پسندی کی تبلیغ کرتے تھے۔ ان کی بیٹی کا کہنا ہے کہ میرے والد پر امن انسان ہیں اور 2016 کے آخر تک انہیں سرکار سے تنخواہ ملتی رہی۔

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق، چین کی حکومت نے تقریباً دس لاکھ مسلم ایغوروں کو عارضی کیمپوں میں نظر بند کر رکھا ہے۔

سنکیانگ حکومت کے ترجمان ایلیجان عنایت نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ چائنا گلوبل ٹیلیویژن نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کی حکومت مسلم علما کا بڑا احترام کرتی ہے۔ مسلمان بچوں کے لیے اسلامی تعلیمات کا بندو بست کرتی ہے، جن لوگوں کو مجرمانہ سرگرمیوں کی بنا پر سزا دی گئی ہے، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تاہم کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ چینی حکام انتہا پسندی کے الزامات لگا کر مسلم برادری کے خلاف سرکاری طور مہم چلا رہے ہیں اور ان کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

یونی ورسٹی آف نوٹنگھم کے تاریخ دان ریان تھم نے وے او اے کو بتایا کہ فرد جرم مبہم ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ چینی قوانین کے مطابق، ان الزامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے غیر قانونی مذہبی سرگرمیوں کی لمبی فہرست بنا رکھی ہے، جن میں سے اکثر غیر قانونی نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر اپنے قصبے سے باہر کسی مسجد میں نماز پڑھنا غیر قانونی فعل قرار دیا گیا ہے۔

روز ہل مین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں چینی علوم کے پروفیسر ٹموتھی گروس نے وی او اے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ایغور علما، جو سرکاری ملازم ہیں، وہ بھی ان سزاوں سے مبرا نہیں ہیں۔ انہیں کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔

مریم گل عبداللہ ایک ایغور مسلم خاتون ہیں اور ترکی میں مقیم ہیں۔ انہوں نے وی او اے کو بتایا کہ ان کے شوہر عبدالحق ایک مذہبی عالم ہیں۔ وہ جب چین واپس گئے تو انہیں ایک جھوٹے الزام کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ عبدالحق قاہرہ کی جامعة الأزهر سے فارغ التحصیل گریجویٹ ہیں اور اپنا کاروبار چلاتے ہیں۔

وہ مارچ دو ہزار سترہ میں چین واپس گئے تھے۔ انہیں ان کے بھائی نے اطلاع دی تھی کہ مقامی حکام نے ان کے چچا اور نامور ایغور شاعر کی یاد میں میوزیم بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ چین پہنچے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد سے ان کی اہلیہ کو ان کے بارے میں اب تک کوئی اطلاع نہیں ملی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG