رسائی کے لنکس

میانمار: اب تک کیا ہوا؟


میانمار میں فوج نے جگہ جگہ چیک پوسٹس قائم کر دی ہیں۔ یکم فروری 2021

میانمار کی فوج نے ملک میں ایک سال تک ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کا نظام اپنے کنٹرول میں لے رہیہے۔

ایسا کیوں ہوا؟

میانمر کی فوج نے الزام لگایا تھا کہ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں فراڈ کیا گیا تھا۔

گزشتہ برس نومبر میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران آنگ ساں سوچی کی "نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی" پارٹی نے بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی تھی۔ میانمر کے الیکشن کمیشن نے الیکشن فراڈ کے الزامات مسترد کر دیے تھے۔

اب کیوں؟

فوج کی جانب سے ایمرجنسی ایسے وقت میں نافذ کی گئی جب ملک کی نئی پارلیمنٹ پیر کے روز اپنا پہلا اجلاس کرنے والی تھی۔

نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے رہنما کہاں ہیں؟

پارٹی ترجمان کے مطابق آنگ ساں سوچی کو پیر کی صبح حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دیگر پارٹی رہنماوں اور ملک کے صدر ونمینٹ کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

بین الاقوامی برادری کا کیا ردعمل ہے؟

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوٹراس سمیت امریکی وزارت خارجہ اور وائٹ ہاؤس نے میانمار میں اس فوجی کاروائی پر مذمتی بیانات جاری کیے ہیں

اس کے علاوہ آسٹریلیا، سنگاپور اور بھارت سمیت کئی ممالک نے میانمار کی فوج کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG