رسائی کے لنکس

میانمار: آنگ سان سوچی منگل کو قوم سے خطاب کریں گی


فائل

ریاستِ رخائن میں تشدد کی کارروائی کی صورت حال کے نتیجے میں، نابیل امن پرائز یافتہ، آنگ سان سوچی سخت بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بنی ہیں، جن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اُنھیں صورتِ حال پر کھل کر بات کرنی چاہیئے

میانمار کی فی الواقع حکمراں، آنگ سان سوچی منگل کے روز قوم سے خطاب کریں گی، جس میں وہ ریاستِ رخائن کے بحران سے متعلق اظہار خیال کریں گی، جہاں تشدد کی کارروائیاں جاری ہیں جن کے نتیجے میں حالیہ ہفتوں کے دوران تقریباً 400000 روہنگیا نسل کے افراد نے ہمسایہ بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے۔

اگست کے اواخر میں روہنگیا کے شدت پسندوں نے برما کی سلامتی افواج پر حملہ کیا۔ اُس وقت سے، تجزیہ کار اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ برما کی فوج نے مظالم پر مبنی کارروائی کی ہے جس میں دیہات مکمل طور پر نذر آتش کردیے گئے ہیں، جب کہ جان بچاتے ہوئے خواتین اور بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اس صورت حال کے نتیجے میں، نابیل امن پرائز یافتہ، آنگ سان سوچی سخت بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بنی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ اُنھیں صورتِ حال پر کھل کر بات کرنی چاہیئے۔

اُنھوں نے اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کو منسوخ کیا، تاکہ وہ ملک میں رہ کر جاری بحران کے بارے میں اظہار خیال کر سکیں۔

انہوں نے روہنگیا کے مسئلے پر ایک ٹیلی وژن انٹریو میں اپنے سوالوں کے جواب دیے اور اپنا موقف بیان کیا۔ ان کے انٹرویو کے اقتباسات۔

پیر کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے باہر گفتگو کرتے ہوئے، برطانیہ کےوزیر خارجہ بورس جانسن نے کہا ہے کہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے اُنھوں نے آج متعلقہ ملکوں کے ایک چھوٹے گروپ کے ساتھ نجی اجلاس کیا۔

اقوام متحدہ میں ’ہیومن رائٹس واچ‘ کے ڈائریکٹر، لوئی شاربو نے بتایا کہ ’’آج کا یہ اعلیٰ سطحی اجلاس پہلا قدم تھا، لیکن یہ آخری کوشش نہیں ہے۔ گفتگو کا یہ نتیجہ نکلنا چاہیئے کہ اقوام متحدہ میانمار کے سلامتی پر مامور اداروں کو پابند کرے کہ وہ نسل کشی کی اپنی مہم بند کریں‘‘۔

شاربو نے جنرل اسمبلی پر قرارداد کا ایک مسودہ تیار کرنے پر زور دیا، جس میں مظالم کی مذمت کی جائے اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا جائے کہ کمانڈروں کے خلاف تعزیرات اور اسلحے کی فراہمی پر پابندی عائد کی جائے، اور برما کی فوج سے سختی سے پیش آیا جائے۔

آنگ سان سوچی پیر کے روز 11 بجے رات ٹیلی ویژن پر انگریزی اور برمی زبانوں میں خطاب کریں گی، جسے وائس آف امریکہ کی ویب سائٹ www.voanews.com پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG