رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی وزیرستان سے پشتون تحفظ تحریک کے حامی امیدواروں کی رہائی


میرانشاہ میں پی ٹی ایم کا دھرنا (فائل)

جنوبی وزیرستان کی ضلعی انتظامیہ نے سوموار کے روز الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایات کے مطابق آئندہ 20 جولائی کو دو مختلف صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں سے پشتون تحفظ تحریک کے حمایت یافتہ امیدواروں کو رہا کر دیا ہے۔

سردار عارف وزیر اور اقبال محسود کو پچھلے مہینے کے اواخر میں ضلعی انتظامیہ نے نقص امن عامہ کی دفعہ تین کے تحت گرفتار کرکے ڈیرہ اسماعیل خان اور ہری پور کے جیلوں میں بند کر دیا تھا۔

ان میں سے سردار عارف وزیر ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کے چچا زاد بھائی ہیں جن کو پچھلی مئی کی 26 تاریخ کو شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے علاقے خڑکمر میں ہونے والی جھڑپ کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس واقع میں اب علی وزیر اور محسن داوڑ سمیت پشتون تحفظ تحریک کے لگ بھگ ایک درجن گرفتار کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین کےتحت قانونی کارروائی جاری ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایک عہدیدار الطاف احمد نے گرفتار امیداروں کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے ابھی ابھی الیکشن کمیشن کو دونوں امیدواروں کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔

تاہم، دوسری طرف شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دفعہ 144 کے بدستور نفاذ سے 20 جولائی کو صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والی انتخابی مہم بری طرح متاثر ہو رہی ہے؛ اور دونوں اضلاع میں انتخابات کے سلسلے میں کسی قسم کا جلسہ اور جلوس منعقد نہیں کیا جا رہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کرفیو کے مسلسل نفاذ کے بارے میں کہا ہے کہ اُنہوں نے سوموار کے روز ایک خط کے ذریعے الیکشن کمیشن سے دفعہ 144 کے ہٹانے اور تمام گرفتار کارکنوں کو رہا کرنے اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو قبائلی اضلاع میں جانے اور جلسے جلوس سے خطاب کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پچھلی 27 جون کو خیبر پختونخوا حکومت کو ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کے ذریعے دفعہ 144 کے فوری طور پر ہٹانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔

مگر ابھی تک ان ہدایات پر عمل درآمد سے متعلق کسی قسم کا جواب موصول نہیں ہوا۔ تاہم، الیکشن کمیشن کے ترجمان نے دعوٰی کیا کہ دفعہ 144 کے نفاذ سے انتخابی سرگرمیوں پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میرانشاہ میں سینئر صحافی حاجی مجتبیٰ نے کہا کہ دفعہ 144 کے نفاذ سے انتخابی سرگرمیاں انتہائی مدھم ہیں۔ کوئی بھی سیاسی جماعت یا آزاد امیدوار عوامی حمایت کےحصول کیلئے جلسہ اور جلوس نہیں کر سکتا۔ اُنہوں نے گھر گھر جا کر انتخابی مہم کے جاری ہونے کی تصدیق کی ہے۔

دونوں قبائلی اضلاع میں انتخابی مہم کے دوران دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیداروں کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے ہیں بلکہ دونوں جماعتوں کے دو درجن سے زائد کارکن گرفتار بھی کرلئے گئے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے رہنما ان چھاپوں اور گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG