رسائی کے لنکس

'قومی احتساب بیورو میں جاری تحقیقات کو جلد مکمل کیا جائے گا'


سابق جسٹس جاوید اقبال چیئرمین قومی احتساب بیورو (فائل فوٹو)

پاکستان کے قومی احتساب بیورو یعنی 'نیب' کے سربراہ سابق جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کی طرف سے مختلف افراد کے خلاف شروع کی گئیں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کو تیزی کے ساتھ مناسب طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بات بدھ کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کو نیب کے معاملات سے متعلق بریفنگ دینے کے بعد پارلیمان کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

جاوید اقبال نے کہا کہ قومی احتساب بیورو پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکتا ہے اور اگر ان کے بقول کسی نے اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو وہ بریف کیس اٹھا کر گھر چلے جائیں گے۔

نیب کے سربراہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنا آیا ہے جب ایک روز قبل ہی سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعلق رکھنے والی بعض شخصیات کو نیب کے ذریعے مبینہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف سپریم کورٹ کی طرف نااہل قرار دیئے جانے کے بعد نہ صرف اس فیصلے پر تنقید کرتے رہے ہیں بلکہ وہ اپنے خلاف نیب کی طرف سے تیار کردہ ریفرنس کو بھی انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنانے کی کوشش قرار دے چکے ہیں۔

سیاسی امور کے تجزیہ کار اور سینئر صحافی عارف نظامی کہتے ہیں کہ نواز شریف اور بعض دیگر سیاسی شخصیات آئین کی ان شقوں کی وجہ سے متاثر ہوئے جو ملک کے سابق فوجی سربراہوں کے ادوار میں بعض سیاسی مصلحتوں کے تحت آئین میں شامل کی گئی تھیں لیکن بعد میں آنے والی سیاسی حکومتوں نے انہیں ختم کرنے کی ان کے بقول کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ" آرٹیکل 62 اور آڑٹیکل 63 کو (سابق فوجی سربراہ) ضیا الحق کے دور میں آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ انہیں جمہوری بنانے کی ضرورت تھی لیکن نواز شریف نے وقتی سیاسی مصلحتوں کے بنا پر یہ کام نہیں کیا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے احتساب کا کوئی ایسا نظام نہیں بنایا جو انصاف پر مبنی ہو اور نظر بھی آئے۔"

انہو ں نے مزید کہا کہ"نیب کا ادارہ سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف نے بنایا تھا تاکہ سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جائے تو ا ب تاریخ اپنے آپ کو دوھرا رہی ہے اس میں سایستدان، بالخصوص نواز شریف، بھی ذمہ دار ہیں۔"

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف اسلام آباد میں قائم نیب کے عدالت میں قومی احتساب بیورو کے تیار کردہ متعدد ریفرنس زیر سماعت ہیں اور نیب نے نوازشریف اور ان کے اہل خانہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے وزارت داخلہ کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا لیکن اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

دوسری طرف بدھ کو نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کے لیے لندن روانہ ہو گئے جو گزشتہ کئی ماہ سے لندن میں زیر علاج ہیں۔

جب نیب کے سربراہ سے نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں ( باہر جانے سے ) روکنا ان کا کام نہیں ہے۔

مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ وہ اپنی والدہ کی عیادت کے لیے لندن جارہی ہیں اور اگر نیب عدالت میں حاضری سے استثنی نہ ملا تو وہ مقدمے کی آئندہ پیشی سے پہلے پاکستان واپس آ جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG