رسائی کے لنکس

logo-print

پلاٹ کیس، میر شکیل الرحمٰن کے خلاف ریفرینس دائر


ضیاءالرحمٰن

لاہور کی احتساب عدالت نے پاکستان کے ایک بڑے نجی میڈیا گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمٰن کے خلاف غیر قانونی پلاٹ کیس کا ریفرینس دائر کر دیا ہے۔ ریفرینس میں جنگ اور جیو گروپ کے مالک سمیت چار ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے؛ جس میں سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف، سابق ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور سابق ڈائریکٹر لینڈ ڈویلپمنٹ، ایل ڈی اے کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

قومی احتساب بیورو لاہور کی جانب سے نواز شریف اور میر شکیل الرحمٰن کے خلاف ریفرینس دو جلدوں پر مشتمل ہے، جس کے بعد احتساب عدالت کے ایڈمن جج نے فاصل جج اسد علی کو ریفرینس پر سماعت کا اختیار دیا ہے۔ ریفرینس کے مطابق، عدالت میں اِس کیس پر سماعت 29 جون 2020ء کو ہوگی۔

واضح رہے یہ ریفرینس 105 دنوں کے بعد دائر کیا گیا ہے، تب سے میر شکیل الرحمٰن نیب کی حراست میں ہیں۔

پاکستان کے بڑے صحافتی ادارے 'جنگ گروپ' کے مالک میر شکیل الرحمٰن کو پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں 12 مارچ کو اُس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ اپنے خلاف تحقیقات کے لیے نیب لاہور کے دفتر گئے تھے۔

پاکستان کے صحافتی اور سیاسی حلقے میر شکیل الرحمٰن کی طویل عرصے سے گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم بخاری کی رائے میں عمران خان سمیت پاکستان تحریک انصاف کی پوری قیادت اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جیو اور جنگ گروپ اُن کے مخالف ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ ''یہ بات سب کے سامنے ہے جب عمران خان کنٹینر پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا کرتے تھے یا الیکشن کی مہم چلا رہے تھے، تو سب سے زیادہ کوریج اِسی میڈیا گروپ نے اُنہیں دی تھی۔ لیکن آج وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اُن کا دشمن گروپ ہے''۔

بقول ان کے، “لہٰذا، ہر کوشش کی جا رہی ہے کہ اُنہیں نقصان پہنچایا جائے۔ جب فواد چوہدری وزیرِ اطلاعات تھے اُس وقت بھی اور اُس کے بعد جب فردوس عاشق مشیر اطلاعات تھیں اُس وقت بھی اِس گروپ کے حوالے سے جس مخاصمت کا مظاہرہ اِن لوگوں نے کیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے”۔

قانونی ماہر اظہر صدیق کی رائے میں میر شکیل کی گرفتاری فوجداری قوانین کے تحت ہوئی ہے، کیونکہ پاکستان میں فوجداری قانون ہی چلتے ہیں۔ ان قوانین کے تحت قتل کی دھمکی ہو یا چیک برآمد ہو جائے تو اُس میں بھی گرفتاری کا عنصر شامل ہوتا ہے۔

وائس آف امریکہ سےگفتگو کرتے ہوئے، اظہر صدیق نے بتایا کہ قوانین نے نیب کو کسی بھی ملزم کی گرفتاری لیے لیے 90 دنوں کا اختیار دیا ہوا ہے۔

بقول ان کے، ''سیکشن 18 اور 24 آپ دیکھ لیں۔ ایسا ہی ایک اور کیس اسفند یار ولی والا سپریم کورٹ تک گیا تھا، جس میں عدالت نے یہ کہا تھا کہ ضمانت کا اختیار ہائیکورٹ کے پاس ہے۔ نوے دنوں میں ریفرینس فائل کرنے کا کہا گیا ہے۔ اِس کیس میں معاملات بہت پیچیدہ ہیں۔ نوے دنوں میں ٹرائل کو مکمل کرنا ہے''۔

سلیم بخاری کی رائے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین اور میڈیا کےلوگوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے لیے نیب کو بری طرح استعمال کیا ہے۔ بقول ان کے، ''حکومت کے پاس سوائے نیب کے اور کوئی حربہ یا راستہ نہیں ہے''۔

سلیم بخاری نے کہا کہ ''جس طرح سے قومی اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، جس پر عالمی برادری میں بھی بات ہو رہی ہے اور پاکستان میں بھی تھوڑا بہت آزاد میڈیا ہے اُس میں بھی بات ہو رہی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ ایک کھلا ثبوت ہے جس میں حکومت جس میڈیا گروپ کو اپنا مخالف سمجھتی ہے اُس کو سبق سکھانے کے لیے نیب کا استعمال کیا گیا ہے جو نہایت قابل مذمت بات ہے''۔

سلیم بخاری نے کہا کہ ''اس میڈیا گروپ کی آواز کو بند کرنے کے لیے حکومت نے اُن کے مالک پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اِس سے پہلے بھی کئی کوششیں ہوئی ہیں کبھی اشتہار بند کر دئیے جاتے تھے، کبھی چینل کو بند یا پچھلے نمبروں پر ڈال دیا جاتا تھا۔ یہ سب کچھ اِس موجودہ حکومت کے دور میں ہو رہا ہے۔ اِس سےپہلے بھی مشرف صاحب کی حکومت میں بھی اس طرح کے حربے استعمال ہوتے تھے۔ لیکن ایک منتخب حکومت بھی وہی اقدامات کرے جو ایک فوجی ڈکٹیٹر کرتا تھا تو صورتحال واضح ہو جاتی ہے''۔

اظہر صدیق نے کہا کہ جہاں تک 105 دنوں تک حراست میں رکھنے کا معاملہ ہے، تو فوجداری قوانین میں یہ اختیار نیب کے پاس ہے۔ جب تک عدالت ضمانت نہیں دیتی تب تک کوئی بھی ملزم باہر آ نہیں سکتا۔ میں نہیں سمجھتا اِس کیس میں کوئی کمی یا بیشی ہے۔ اُن کی رائے میں اگر یہ قوانین ختم کر دئیے جائیں تو پھر انتظامی معاملات والی بات ہو جائے گی یعنی شوکاز نوٹس دئیے جائیں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ ساری عدالتی کارروائی ہے۔ ہم میں یہ غلط تاثر قائم ہے کہ پہلے ثبوت دکھائیں پھر گرفتار کریں۔ پوری دنیا میں یہ طریقہ کار رائج نہیں ہے۔ جب کسی ملزم سے کچھ برآمد کرنا ہوتا ہے تو اُس کو گرفتار کیا جاتا ہے اور جسمانی ریمانڈ کے دوران ہونے والی تفتیش میں چیزیں سامنے آئیں گی''۔

نیب ترجمان کے مطابق، میر شکیل الرحمان پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے 54 کنال اراضی کے پلاٹ بطور رشوت لینے کا الزام ہے، جب نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔ البتہ، جنگ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ 34 سال پرانا ہے اور انہوں نے پلاٹ حکومت سے نہیں بلکہ پرائیویٹ افراد سے خریدے تھے۔

امریکی ریاست نیویارک میں قائم صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس بھی میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کی مذمت کر چکی ہے۔

فرانس میں صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'رپورٹر ودآوٹ بارڈرز' بھی میر شکیل کی گرفتاری کی مذمت کر چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG