رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب کی پالیسی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ نیب کا جب اور جسے دل چاہتا ہے گرفتار کر لیتا ہے۔

نیب کی گرفتاری کی پالیسی کسی کو سمجھ نہیں آتی، عدالت نے مضاربہ اسکینڈل کے ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست خارج کر دی۔

مضاربہ اسکینڈل میں مرکزی ملزم مطیع الرحمان کی ضمانت منسوخی کی درخواست کی سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت سپریم کورٹ نے نیب سے متعلق سخت ریمارکس دئیے۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ نیب کسی ملزم کے گلے میں ہاتھ ڈال کر پھرتا ہے تو کسی کو گرفتار کر لیتا ہے۔ اس کی گرفتاری کی پالیسی کسی کی سمجھ میں نہیں آتی۔ نیب کا دل نہ ہو تو ملزمان کو گرفتار ہی نہیں کرتا۔ کوئی نہیں جانتا کس کیس کسی شخص کو گرفتار کیا جاتا ہے اور کس میں نہیں۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ وہ نیب کے نئے چیئرمین پر زیادہ بات نہیں کریں گے۔ مضاربہ اسکینڈل کا مرکزی ملزم دو سال سے گرفتار ہے ۔ اسے مزید کتنا عرصہ جیل میں رکھنا ہے۔ اتنی سزا مقدمے میں نہیں ہوتی جتنا عرصہ ملزمان کو جیل میں رکھا جاتا ہے۔

نیب پراسیکوٹر نے بتایا کہ ملزم نے عوام سے 38 کروڑ 60 لاکھ روپے کا فراڈ کیا۔ ملزم کے خلاف 36 گواہان بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG