رسائی کے لنکس

logo-print

کیپٹن (ر) صفدر اڈیالہ جیل منتقل


نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کے اتوار کو راولپنڈی میں ایک ریلی کے دوران گرفتاری دی تھی۔

راولپنڈی پولیس نے کیپٹن صفدر کی گرفتاری میں خلل ڈالنے اور ریلی سے ان کا خطاب کرانے کے الزام میں راولپنڈی میں مسلم لیگ (ن) کے کئی رہنماؤں اور سیکڑوں نامعلوم کارکنوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت سے ایون فیلڈ ریفرنس میں ایک سال قید کی سزا پانے والے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے داماد اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

کیپٹن (ر) صفدر اتوار کو اچانک راولپنڈی میں مسلم لیگ (ن) کی ایک ریلی میں نمودار ہوئے تھے اور کئی گھنٹے تک ریلی کی قیادت کرنے کے بعد انہوں نے خود کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکام کے حوالے کردیا تھا۔

نیب راولپنڈی کی ٹیم نے پیر کو کیپٹن صفدر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے سامنے پیش کیا جنہوں نے مجرم کو اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

کیپٹن (ر) صفدر کو بکتربند گاڑی میں عقبی راستے سے احتساب عدالت لایا گیا اور عدالت کے حکم پر اسی راستے سے اڈیالہ جیل روانہ کردیا گیا۔

راولپنڈی کا اڈیالہ جیل جہاں کیپٹن صفدر اپنی سزا کاٹیں گے۔
راولپنڈی کا اڈیالہ جیل جہاں کیپٹن صفدر اپنی سزا کاٹیں گے۔

اس سے قبل گزشتہ روز کیپٹن ریٹائرڈ صفدر جب نیب کو گرفتاری دینے راولپنڈی پہنچے تھے تو نون لیگ کے کارکنوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا تھا۔

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی قیادت میں ن لیگ کے کارکنوں کی ریلی نے راولپنڈی کے مختلف علاقوں کا گشت کیا تھا۔

اس دوران پولیس اور نیب کی ٹیم نے انہیں گرفتار کرنے کی کئی بار کوشش کی تھی مگر کارکنوں کی مزاحمت کے باعث اسے کامیابی نہیں ہوئی تھی۔

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پہلے راولپنڈی کے لیاقت باغ اور پھر سکستھ روڈ پر گرفتاری دینے کا اعلان کیا تھا۔ وہ ریلی کے پلان کے مطابق راجہ بازار اور صرافہ بازار سے ہوتے سکستھ روڈ تک جانا چاہتے تھے لیکن نیب نے انہیں صرافہ بازار سے ہی گرفتارکرلیا تھا۔

تاہم ان کی باضابطہ گرفتاری سکستھ روڈ پر مسلم لیگ (ن) کے مرکزی دفتر میں عمل میں لائی گئی تھی۔

راولپنڈی پولیس نے کیپٹن صفدر کی گرفتاری میں خلل ڈالنے اور ریلی سے ان کا خطاب کرانے کے الزام میں راولپنڈی میں مسلم لیگ (ن) کے کئی رہنماؤں اور سیکڑوں نامعلوم کارکنوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج پر خواجہ حارث کا اعتراض

دریں اثنا اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جج محمد بشیر پر اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ یہ کیس ہی نہیں سن سکتے۔ آپ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ دے چکے ہیں، باقی دو ریفرنسز کسی اور عدالت میں منتقل کریں۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے جمعے کو نواز شریف کے خلاف لندن فلیٹ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سات سال اور داماد کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز پر بھاری جرمانہ عائد کرتے ہوئے حکومت کو لندن میں موجود ان کے فلیٹ بحق سرکار ضبط کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے پیر کو نواز شریف کے خلاف دائر العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کی۔

گرفتاری سے قبل کیپٹن (ر) صفدر کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی ریلی نے راولپنڈی کے مختلف علاقوں کا گشت کیا تھا۔
گرفتاری سے قبل کیپٹن (ر) صفدر کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی ریلی نے راولپنڈی کے مختلف علاقوں کا گشت کیا تھا۔

سماعت شروع ہوئی تو نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے نواز شریف کی حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کی اور ساتھ ہی اعتراض اٹھایا کہ جج محمد بشیر ایسے ہی ایک مقدمے میں ان کے مؤکل کے خلاف فیصلہ دے چکے ہیں لہذا انہیں دیگر ریفرنسز نہیں سننے چاہئیں۔

خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ مناسب بات یہ ہے کہ دونوں ریفرنسز کو کسی اور عدالت میں منتقل کردیا جائے۔

اس موقع پر جج محمد بشیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ٹرائل کی مدت میں اضافے کے لیے درخواست لکھنی ہے، سپریم کورٹ کو درخواست میں آپ کا اعتراض بھی شامل کرلیں گے۔

اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ کو خط میں تمام صورتِ حال سے آگاہ کردیں۔ وہاں سے جو ڈائریکشنز ملیں گی، اس طرح کارروائی آگے بڑھا لیں۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اگر یہی عدالت دیگر ریفرنسز پر سماعت جاری رکھتی ہے تو انہیں اس پر اعتراض نہیں۔

جج محمد بشیر نے کہا کہ خواجہ صاحب جو بات کر رہے ہیں، ویسے کرلیتے ہیں اور سپریم کورٹ کی ڈائریکشنز کا انتظار کرلیتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے ملزم نواز شریف کی حاضری سے تین دن کے استثنا کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمے کی آئندہ سماعت 12 جولائی ک ملتوی کردی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG