رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی کے سابق ناظم نعمت اللہ خان انتقال کر گئے


نعمت اللہ خان کا تعلق مذہبی جماعت، جماعت اسلامی سے تھا۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں وہ 2001 میں کراچی کے ناظم منتخب ہوئے تھے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے سابق میئر نعمت اللہ خان منگل کی دوپہر انتقال کر گئے ہیں۔ اُن کی عمر 89 برس تھی۔

پیشے کے اعتبار سے نعمت اللہ خان وکیل تھے اور ان کا تعلق مذہبی سیاسی جماعت، جماعتِ اسلامی سے تھا۔ وہ 2001 میں پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں کراچی کے ناظم منتخب ہوئے تھے۔

نعمت اللہ خان کے دور کو کراچی کی ترقی کا سنہری دور قرار دیا جاتا ہے۔ اُن کے دور میں کراچی میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام ہوئے تھے۔

نعمت اللہ خان کو کراچی میں سڑکوں، پُلوں اور انڈر پاسز کا جال بچھانے اور شہر میں پارکوں کے قیام اور کھیلوں کے میدانوں کی بحالی کے حوالے سے بھی یاد رکھا جاتا ہے۔ اُن کے دور میں شروع کیے گئے منصوبوں کو بعد ازاں سابق ناظم مصطفیٰ کمال نے مکمل کرایا تھا۔

نعمت اللہ خان نے کراچی کے پہلے منتخب میئر جمشید نسروانجی کے اسٹینو گرافر کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

تعلیم کے ساتھ ساتھ نعمت اللہ خان سیاسی شعور بھی رکھتے تھے اور زمانۂ طالب علمی ہی سے وہ سیاسی طور پر متحرک تھے۔ وہ لڑکپن میں مسلم لیگ کے صدر محمد علی جناح کی بلائی گئی مسلم لیجسلیٹرز کانفرنس میں بھی شریک ہوئے تھے۔

بعد ازاں انہوں نے اپنے کئی انٹرویوز میں بتایا کہ انہیں شروع سے ہی جماعتِ اسلامی کے بانی مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے نظریات اور خیالات پسند تھے۔ البتہ انہوں نے جماعت میں باقاعدہ شمولیت 70 کے عشرے میں اختیار کی۔

اسی دوران 1977 میں نعمت اللہ خان کو ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں ایک ریلی نکالنے کی پاداش میں کئی ماہ جیل کاٹنا پڑی۔ وہ 1985 کے غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے عام انتخابات میں پہلی بار سندھ کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پارلیمانی سیاست کا آغاز کیا۔

سال 1990 میں نعمت اللہ خان کو جماعتِ اسلامی کراچی کا امیر مقرر کر دیا گیا۔ وہ اس پارٹی عہدے پر طویل عرصے تک فائز رہے۔

نعمت اللہ خان کی قائدانہ اور انتظامی صلاحیتوں کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوا جب 2001 میں جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں وہ کراچی کے ناظم منتخب ہوئے۔

نعمت اللہ خان کے ساتھ کراچی کے نائب ناظم رہنے والے طارق حسن کہتے ہیں کہ نعمت اللہ خان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ انہوں نے پرویز مشرف کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ کراچی میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے حکومت کی جانب سے براہِ راست فنڈز کے بجائے وفاقی اداروں سے فنڈنگ کرائیں۔

پرویز مشرف نے ان کی اس تجویز سے اتفاق کیا اور پھر اس مقصد کے لیے 'تعمیر کراچی پروگرام' کے تحت کراچی پورٹ ٹرسٹ، ریلوے، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سمیت مختلف اداروں اور وفاقی حکومت کی براہِ راست مدد سے کراچی میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کرائے گئے۔

نعمت اللہ خان کے دورِ نظامت میں شہر میں متعدد فلائی اوورز اور انڈر پاسز کی تعمیر ہوئی۔ انہوں نے ٹرانسپورٹ کے نظام میں اصلاحات متعارف کرائیں جب کہ پارکس اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت، پانی کی فراہمی اور کئی دیگر ترقیاتی منصوبے بھی مکمل کرائے۔

چار سال تک نعمت اللہ خان کے ساتھ نائب ناظم رہنے والے طارق حسن کہتے ہیں کہ نعمت اللہ خان ایک ویژن رکھنے والے سیاسی ورکر تھے اور ان کے سیاسی مخالف بھی ان کی دیانت داری اور شرافت کے قائل تھے۔

طارق حسن کے بقول بہت سے لوگ نعمت اللہ خان کی ایمان داری کے باعث ان سے خائف اور نالاں بھی رہتے تھے۔

سال 2004 کے بلدیاتی انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ سے شکست کے بعد جماعتِ اسلامی کے ہاتھوں سے کراچی کی بلدیاتی سیاست نکل گئی۔

نعمت اللہ خان شہر کی نظامت سے فراغت کے بعد جماعتِ اسلامی کی غیر سرکاری فلاحی تنظیم 'الخدمت' چلاتے رہے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے شہر میں واقع پارکس پر قبضوں اور وہاں سیاسی جماعتوں کے دفاتر کے قیام کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا۔

نعمت اللہ خان کی آئینی درخواست پر شہر میں پہلی بار پارکوں سے تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیے گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG