رسائی کے لنکس

logo-print

نمرتا کماری کی موت گلا گھونٹنے سے ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ


نمرتا کماری ۔ فائل فوٹو

لاڑکانہ میں آصفہ میڈیکل کالج کی طالبہ نمرتا کماری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نمرتا کی ہلاکت گلا گھونٹنے کی وجہ سے ہوئی۔

16 ستمبر کو لاڑکانہ کےآصفہ میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائی جانے والی طالبہ نمرتا کماری کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کے پولیس سرجن آفس کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نمرتا کماری کی موت کی اصل وجہ ان کا گلا گھونٹنا تھی۔ اس بات کی نشاندہی ان کے گلے کے گرد پائے گئے نشانات سے بھی ہوتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ نشانات کسی کے خون کی گردش روکنے یا پھر چھت سے لٹکنے سے بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم اس بات کی حتمی تصدیق کرائم سین سے حاصل شدہ واقعاتی ثبوتوں کے ذریعے کی جاسکتی ہے، جو تحقیقاتی اداروں نے حاصل کئے تھے۔

لیاقت یونیورسٹی جامشورو کی فرانزک اینڈ مالیکیولر بائیولوجی لیبارٹری کی جاری کردہ عبوری ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ پر وومن میڈیکل آفیسر چانڈکا میڈیکل کالج ڈاکٹر امرتا کے دستخط اور مہر ثبت ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وومن میڈیکل آفیسر طبی معائنے سے متعلق اپنا تفصیلی بیان عدالت میں ریکارڈ کروائیںگی۔

ادھر پولیس حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ رپورٹ واقعے کی عدالتی تحقیقات کرنے والے جج کو ارسال کردی گئی ہے۔ ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود بنگش نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چونکہ اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کی جارہی ہیں جو اگلے پانچ روز میں اس کی تحقیقات مکمل کرلیں گے۔ اس لئے یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی عدالتی احکامات کے تحت جو بھی ملزمان ہوں گے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب مجرمانہ کیسوں کی پیروی کے نامور وکیل محمد فاروق کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ ایسے اندھے قتل کے واقعات کا کھوج لگانے میں انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، تاہم اس رپورٹ سے اخذ کی گئی معلومات اور دیگر شواہد کا کرائم سین سے اکھٹے کئے گئے واقعاتی شواہد سے ہم آہنگ ہونا بے حد ضروی ہے۔ اور ان تمام شواہد کی روشنی ہی میں کسی کو ذمہ دار قرار دیاجا سکتا ہے یا کوئی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ واقعے کے بعد نمرتا کے لواحقین نے الزام عائد کیاتھا کہ اسے قتل کیا گیا ہے تاہم انہوں نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا تھا۔ تاہم یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکتر انیلہ عطاء الرحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ واقعہ خودکشی ہے تاہم انہوں نے واقعے کی حتمی تحقیقات تک کوئی بھی بات وثوق سے کہنے سے انکار کیا تھا۔

لیکن عوامی دباو کے تحت حکومت نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا اور سیشن جج کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس واقعے سے متعلق یونیورسٹی وائس چانسلرسمیت دیگر افسران کے بیانات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد بھی سوشل میڈیا پر لوگوں کی بڑی تعداد صوبائی حکومت سے نمرتا کماری اور اس کے اہل خانہ کے لئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

انسانی حقوق کی نامور کارکن زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ یہ کیس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان میں خواتین اور بالخصوص اقلیتی برادری کے ساتھ ناروا سلوک کی شکایات عام ہیں اس لیے ضروری ہے کہ اس کیس سامنے آنے والے شواہد کو انتہائی باریک بینی سے پرکھا جائے تاکہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG