رسائی کے لنکس

logo-print

بہت کچھ سہہ لیا اب نیا کشمیر بنائیں گے: نریندر مودی


بھارت کی پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے متعلق حکومتی اقدامات کا دفاع کیا۔ (فائل فوٹو)

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ جنوری 1990 میں کشمیر کا تشخص دفن کر دیا گیا تھا۔ کشمیر بھارت کے سر کا تاج ہے۔ بہت کچھ سہہ لیا اب نیا کشمیر بنائیں گے۔

جمعرات کو بھارت کی پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے متعلق حکومتی اقدامات کا دفاع کیا۔

انہوں نے کہا کہ 1990 میں کشمیر کی شناخت بم دھماکے، تشدد اور قتل و غارت گری تھی۔تشدد کے باعث ہزاروں کشمیری پنڈت گھرانے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

نریندر مودی نے ایوان میں موجود ارکان کو مخاظب کرتے ہوئے کہا "بس آپ نے بہت کچھ برداشت کر لیا۔ اب دُنیا بدل رہی ہے۔ ہمیں آگے بڑھنا ہو گا۔ ہم نیا کشمیر بنائیں گے۔"

بھارتی وزیرِ اعظم نے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلٰی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔

اُنہوں نے کہا کہ "کیا یہ لوگ بھول گئے کہ 19 جنوری 1990 کی رات کیا ہوا تھا۔ جب کشمیر میں بم دھماکے، گولیوں اور تشدد سے کشمیر کی شناخت دفن ہو گئی تھی۔"

خیال رہے کہ 19 جنوری 1990 کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان واقعات کے دوران کشمیر میں مقیم ہزاروں برہمن پنڈت گھرانوں پر بھی حملے ہوئے تھے۔ جس کی وجہ سے لاکھوں کشمیری پنڈت وادی سے نکل کر جموں یا بھارت کے دیگر علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تاحال مختلف پابندیاں عائد ہیں۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تاحال مختلف پابندیاں عائد ہیں۔

بھارت کی حکومت نے گزشتہ سال پانچ اگست کو بھارتی آئین میں موجود آرٹیکل 370 ختم کرتے ہوئے کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کر دی تھی۔

اس اقدام کے خلاف بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے مخالفت کی تھی۔ جموں و کشمیر کے بھارت نواز کشمیری رہنماؤں نے بھی اس اقدام کی مذمت کی تھی۔

بھارتی کشمیر کے سابق وزرائے اعلٰی فاروق عبداللہ، عمر اللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی نظر بند کر دیا گیا تھا۔

اپنے خطاب کے دوران نریندر مودی نے کہا بھارتی عوام نے گزشتہ پانچ سال کے دوران ہماری کارکردگی کی بنیاد پر ہمیں دوبارہ موقع دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم مسائل کے ساتھ زیادہ دیر نہیں چل سکتے۔ لہذٰا ہمیں اُنہیں تیزی کے ساتھ حل کرنا ہو گا۔

نریندر مودی نے کہا کہ اگر بھارتی حکومت پرانے طرز عمل کے تحت ہی چلتی۔ تو رام جنم بھومی اور کرتار پور راہداری جیسے منصوبوں کے خواب کبھی پورے نہ ہوتے۔

متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف بھارت کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف بھارت کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

متنازع شہریت بل کے خلاف جاری مظاہروں پر اظہار خیال کرتے ہوئے بھارتی وزیرِ اعظم نے کہا کہ شہریت بل پر احتجاج کرنے والوں کو کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں اُکسا رہی ہیں۔

کانگریس رہنما راہول گاندھی کا نام لیے بغیر نریندر مودی نے کہا کہ "ایک رُکن پارلیمنٹ نے مجھے چھ ماہ بعد چھڑی سے مارنے کی بات کی۔ میں اُن سے کہتا ہوں کہ گزشتہ 20 سال سے مجھے گالیاں دی جا رہی ہیں۔ لہذٰا اب اُن کا منفی پروپیگنڈا میرے لیے اہمیت نہیں رکھتا۔"

یاد رہے کہ دسمبر 2019 میں بھارت کی پارلیمان نے متنازع شہریت بل منظور کیا تھا۔ جس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے 'مذہبی جبر' کی بنیاد پر بے دخل ہونے والے چھ مذاہب کو بھارتی شہریت دینے کی منظوری دی گئی تھی۔ ان میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

متنازع شہریت بل کے خلاف بھارت بھر میں اب بھی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ لیکن بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ کسی صورت یہ بل واپس نہیں لیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG