رسائی کے لنکس

logo-print

'بھارتی اقدامات کے باوجود مسئلہ کشمیر اپنی جگہ برقرار رہے گا'


پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے اور پاکستان اپنے زیرِ انتظام کشمیر کو ضم نہیں کرنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کے لوگ بھارت کے اقدامات کی نفی اور اُنہیں مسترد کر رہے ہیں۔

پاکستان میں ہر سال پانچ فروری کو منائے جانے والے 'کشمیر ڈے' کے موقع پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ بھارت نے کشمیر سے متعلق جو اقدامات کیے ہیں وہ حتمی نہیں ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ اپنی جگہ ویسے ہی موجود ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے بھارت سے الحاق کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟ جب کہ گلگت بلتستان کا انتظام بھی تو پاکستان کے پاس ہے؟ راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کو معاہدۂ کراچی کے تحت گلگت بلتستان کا انتظام عارضی طور پر دیا گیا تھا۔

اُن کے بقول یہ باتیں کی جاتی رہی ہیں کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنا دیا جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکتا اور پاکستان ایسا نہیں کرے گا۔

راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ 1973 کے آئین اور اس میں کی گئی کسی بھی ترمیم میں گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ نہیں بنایا گیا بلکہ اسے کشمیر کا ہی حصہ قرار دیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت نے اب تک کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے پاکستان کے کشمیر سے متعلق مؤقف کو نقصان پہنچتا ہو۔ امید ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا کچھ نہیں کیا جائے گا۔

اگر پاکستان بھی بھارت کی طرح اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دے تو آپ کا کیا ردعمل ہو گا؟ اس سوال پر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ بعض ٹی وی چینل کے اینکرز نے اس رائے کا اظہار کیا تھا لیکن کسی کی طرف سے اس پر اتفاق نہیں کیا گیا۔ یہ صرف سوشل میڈیا پر آنے والی افواہیں ہیں، پاکستان ایسا نہیں کر سکتا۔

راجہ فاروق حیدر سے ان کے اس بیان کی بابت دریافت کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ آپ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے آخری وزیرِ اعظم ہیں۔ ایسا کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

راجہ فاروق حیدر نے جواباً کہا کہ کچھ لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے انہیں ایسا کہنا پڑا۔

بھارت کے آرمی چیف کی حالیہ بیان کا جواب دیتے ہوئے راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ بھارت پاکستانی کشمیر پر فوج کشی نہیں کر سکتا۔ اگر اس نے ایسی کوئی کوشش کی تو اسے عبرت ناک شکست ہو گی۔ اُن کے بقول نریندر مودی انتخابات میں سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں۔

راجہ فاروق حیدر نے مزید کہا کہ آئندہ چند برسوں میں بھارت میں بڑی تبدیلیاں دکھائی دے رہی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ بھارت اپنی اصل شکل میں برقرار نہ رہ سکے۔ پھر ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا قانون ساز اسمبلی سے خطاب

یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کے اقدامات کے باعث بھارت بری طرح پھنس چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کا تنازع گزشتہ 70 سال میں اتنا نمایاں نہیں ہوا تھا۔ جتنا اُن کی کاوشوں کی وجہ سے آج ہو گیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ میں 600 اراکین نے کشمیر کے حوالے سے قرارداد پیش کی ہے۔ امریکی قانون ساز بھی وقتاً فوقتاً کشمیر کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 11 دن میں ایک ایٹمی قوت کے حامل ملک کو شکست دینے کی بات کوئی ذہنی طور پر بیمار شخص ہی دے سکتا ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ اُن کا ملک چند روز میں ہی پاکستان کو جنگ میں شکست دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ بھارت کے خلاف سفارتی اور سیاسی جنگ تیز کی جائے گئی۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کی قومی مفاہمت کے حوالے سے دی گئی تجویز پر بھی عمران خان نے ردعمل دیا۔

اُنہوں نے کہا کہ میں اپنے گھر میں چوری کرنے والوں سے مفاہمت نہیں کر سکتا۔ جو لوگ ملک کا پیسہ لوٹ کر ملک سے باہر لے گئے اُن سے مفاہمت کے لیے مجھے نہ کہا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG