رسائی کے لنکس

logo-print

سورج کے مطالعے کے لیے ناسا کا نیا مشن


کرہ ارض کی آب وہوا میں سورج کا کردار انتہائی اہم ہے۔ لیکن سورج میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیاں صرف زمین کے موسم پر ہی اثر انداز نہیں ہوتیں بلکہ وہ سیٹلائیٹ رابطوں ، نیوی گیشن اور زمین پر بجلی کی فراہمی کے نظاموں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ امریکی خلاادارہ ناساتوقع ہے کہ اس ہفتے سورج کے اثرات کے مشاہدے کے لیے ایک مشن شروع کرے گا۔

ہم سورج کی تپش اور روشنی کو تو براہ راست محسوس کرتے ہیں، لیکن ہم سورج کے مقناطیسی اثرات میں تبدیلی کے زمین پر پڑنے والے اثرات سے بھی گذرتے ہیں ، اگرچہ اس کا ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔

سائنس دان ڈین پیسنل کا کہنا ہے کہ سورج کے مقناطیسی دائرے میں ہونے والی تبدیلیاں بڑے پیمانے پر اثرات مرتب کرتی ہیں اور اس کا ایک مظاہرہ سات سال قبل جنوبی سویڈن میں ایک بلیک آؤٹ کی شکل میں ہواتھا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب سورج کی فضا میں کوئی بڑی تبدیلی واقع ہوتی ہے تو ان کے اثرات زمین کے مقناطی دائر ے پر پڑتے ہیں اور اس سے ہمارا بجلی کانظام متاثر ہوسکتا ہے۔ ایک اسی طرح کا واقعہ 2003ء میں سویڈن میں پیش آیاتھاجب قصے مالمو میں بجلی کا نظام فیل ہوگیا تھا۔

پیسنل ناسا کے گودارد سپیس فلائٹ سینٹر سے وابستہ ہے جو واشنگٹن سے کچھ ہی باہر واقع ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سورج ہمہ جہت ہے۔ اس کے مقناطیسی دائرے میں ہونے والی تبدیلیاں شمسی نظام میں برقیائے ہوئے ذرات بھیجتی ہیں یا یہ سورج کی فضا میں دھماکوں میں شکل میں ظاہر ہوتی ہیں جن سے لاکھوں ٹن شمسی موادخلا میں بکھر جاتا ہے۔

اس قسم کی تبدیلیوں سے ہمارے شمسی نظام میں توانائی اور تابکاری کی سطح تبدیل ہوجاتی ہےجس کا اثر ہماری ٹکنالوجی مثلاً سیٹلائٹ رابطوں یا نیوی گیشن سسٹمز پر ہوسکتا ہے۔ لیکن پیسنل کہتے ہیں کہ ہم ان اثرات کو یہاں زمین پر ہمیشہ براہ راست محسوس نہیں کرتے۔

سورج خلائی موسم مثلاً شمسی ہوا، شمسی دھماکوں اور شمسی شعلوں کا منبع ہے۔ خلائی موسم پر سورج کے اثرات اور خلائی موسم کے انسانی زندگی پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ناسا کے سائنس دانوں نے یہ نیا تحقیقی مشن شروع کیا ہے جو یہ تعین کرے گا کو سورج کامقناطیسی دائرہ کس طرح تشکیل پاتا ہے اور تباہی سے دوچار ہوتا ہے۔

پیسنل کا کہناہے کہ اس مشاہداتی پراجیکٹ کی مدد سے سورج کے اندرونی حصے کی مستقلاً زیادہ نمایاں تصاویر حاصل کی جائیں گی اور اس کے مقناطیسی دائرے کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات اکھٹی کی جائیں گی، جن کی مدد سے سورج کی اندرونی سطح میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا پتاچلایا جاسکے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس خلائی دوربین کی مدد سے سورج کی ایسی تصویریں کھینچی جائیں گی جو اس سے پہلے کبھی حاصل نہیں کی گئیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس مشن کے تحت ہر سیکنڈ کے تین چوتھائی وقت میں سورج کی ایک تصویر کھینچی جاسکے گی۔

اس معلوماتی مواد کے ذریعے توقع ہے کہ ماہرین بالآخر شمسی آندھیوں اور سورج میں آنے والی ان تبدیلیوں کے بارے میں پیش گوئی کرسکیں گے جو مدار میں جانے والے خلائی جہازوں کے ساتھ ساتھ زمین پر بجلی ، الیکٹرانک مواصلات اور نیوی گیشن سسٹمز کو متاثر کرسکتی ہیں۔

ناسا کا کہنا ہے کہ اس خلائی دوربین کے ذریعے حاصل کی جانے والی تصویریں ہائی ڈیفی نیشن کی تصاویر سے دس گنا زیادہ بہتر ہوں گی۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں توقع ہے کہ اس مواد کو اسی طرح دکھایا جاسکے گا جس طرح ایک عام فلم دکھائی جاتی ہے۔

اس خلائی دوربین کا ابتدائی مشن توقع ہے پانچ سال پر محیط ہوگا جس دوران اس کے ذریعے روزانہ تقریباً ڈیڑھ ٹیرابائٹس ڈیٹا زمینی مرکز پر بھیجا جائے گا۔ ناسا کا کہنا ہے روزانہ وصول ہونے والا یہ ڈیٹا تقریباً اتنا ہی ہوگا جتنا کہ روزانہ پانچ لاکھ گانوں کا ڈاؤن لوڈ کیا جانا۔

XS
SM
MD
LG