رسائی کے لنکس

logo-print

پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کے قومی مرکز کے قیام کا بل منظور


پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیر یں یعنی قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی نے ملک میں پرتشدد انتہاپسندی کےانسداد کے قومی مرکز کے قیام کے بل کا مسودہ منظور کر لیا ہے۔

اس مرکز کے قیام کا مقصد ملک میں انسدداد دہشت گردی کے لیے 2015ء میں وضح کردہ قومی لائحہ عمل کے مقاصد کا حصول اور ملک میں پرتشدد انتہا پسندی، نسلی و مذہبی تقسیم اور عدم برداشت کا سبب بننے والے عوامل کی نشاندہی کر کے ان کا بروقت تدارک کرنا ہے۔

اس مجوزہ بل کی منظور ی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے دی ہے اور اسے منطوری کے لیے آئندہ چند ہفتوں میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

بل میں بتایا گیا ہے کہ کہ قومی مرکز برائے پرتشدد انتہا پسندی وزارت دفاع کے تحت تشکیل کردہ بورڈ آف گورنر کی نگرانی میں کام کرے گا اور اس میں وزارت داخلہ، تعلیم اور دیگر اداروں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

پاکستان کو گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی اور انہتاپسند ی کے سامنا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کے مستقبل میں خاتمے کے لیے قومی سطح پر آئندہ کئی سالوں تک پائیدار بنیادوں پر کوششیں جاری رکھنا ضروری ہیں۔

سلامتی کے امور کے ماہر اور فوج کے سابق بریگیڈئیر سید نزیر نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد ی کے خلاف وضح کیے گئے قومی لائحہ عمل پر ان کے بقول من و عن عمل ہوتا تو شاید اس طرح کے کسی نئے قانون کی ضرورت نہ پڑتی۔ تاہم انہوں نے کہا شاید یہ نیا بل اس بیرونی دباؤ کم کرنے کی ایک کوشش ہے جس میں پاکستان سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مزید اقدمات کا تقاضا کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا ان کے خیال میں انتہاپسندی کے راستے پر چلنے والوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا کے لیے مصالحت اور مفاہمت کی پالیسی بھی وضح کرنا ضروری ہے۔

" ایک بہت بڑی آباد ی ہے جو مختلف قسم کی انتہا پسندانہ سوچ کی حامل ہے اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے تشدد کو روکنے کے لیے ادارے ہونے چاہیے تاکہ لوگوں میں آگاہی پیدا ہو اور ایسے مراکز ہوں جہاں اس سوچ کے حامل افراد کے ذہین کو تبدیل کر کے انہیں صحت مندانہ سوچ کی طرف راغب کیا جا سکا ۔ "

انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مستقل بنیادوں پر عملی قدامات کو جاری رکھنا ہوں گے اور اس کے تحت ان کے بقول سزا و جزا کی پالیسی پر ایک ساتھ جاری رکھنا ضروری ہے۔

" ہم حالت جنگ میں ہم گزر رہے ہیں اور قانون تو ضرور ہونے چاہیے لیکن اگر ایک چیز (پرتشدد انتہا پسندی) پھیل رہی ہے اس کا روکنے کا راستہ صرف بندوق نہیں ہے اس کے لیے مفاہمت کی پالیسی پر مستقبل بنیادوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔"

گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران پاکستان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سامنا رہا ہے لیکن حالیہ سالوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گرد واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے تاہم اب حکومت کے لیے نوجوان نسل کو انتہا پسندانہ سوچ کی طرف راغب ہونے سے روکنا ایک چیلنج ہے اور پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے منظور کیے جانے والے بل کے تحت ایسے اقدامات بھی تجویز کئے گئے جہاں تعلیم اداروں میں انتہا پسند اانہ سوچ کے منفی اثرات سے متعلق نوجوان نسل میں آگہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ عدم برداشت اور نفرت انگیز رویوں کی روک تھام کی جانب مائل کرنا شامل ہے۔

دوسری پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے بدھ کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کی کوشش کسی کو خوش کرنے کےلیے نہیں بلکہ ہم ملک سے دہشت گرد عناصر کا خاتمہ خطے کے امن اور ملکی مفاد میں کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG