رسائی کے لنکس

نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کا دوسرا مرحلہ: کھلاڑیوں کے پاس ورلڈکپ اسکواڈ کا حصہ بننے کا سنہری موقع


فائل فوٹو

رواں ماہ متحدہ عرب امارات میں کھیلے جانے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ اس سلسلے میں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے اور اب بدھ سے ایونٹ کا فیصلہ کن مرحلہ لاہور میں شروع ہو گا۔

ایونٹ کے سیمی فائنل میں ٹاپ چار ٹیمیں شریک ہوں گی جن کے درمیان 12 اکتوبر تک میچز کھیلے جائیں گے اور ایونٹ کی ٹرافی کے حق دار کا فیصلہ 13 اکتوبر کو ہوگا۔

ایونٹ کے پہلے مرحلے میں جہاں سنسنی خیز میچز دیکھنے کو ملے وہیں کئی نیشنل ٹیم میں موجود کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ایسے کھلاڑیوں نے بھی پرفارم کیا جو قومی ٹیم میں شامل نہیں۔

اس وقت یہ خبریں بھی زیرِ گردش ہیں کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل ٹیم میں چند تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں کون اپنی جگہ بچانے میں کامیاب ہوتا ہے، اور کون جگہ بنانے میں۔

نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ، پوائنٹس ٹیبل پر کون آگے؟

نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے پہلے مرحلے کے اختتام پر پوائنٹس ٹیبل کی صورتِ حال بھی اتنی ہی دلچسپ ہے جتنا کہ اس میں کھیلے جانے والے میچز۔ چھ ٹیموں پر مشتمل ایونٹ میں پہلی چار پوزیشن پر موجود ٹیموں کے میچز اور پوائنٹس کی تعداد یکساں ہیں۔

سرفراز احمد کی سندھ کی ٹیم صرف اعشاریہ چھ چار سات کے نیٹ رن ریٹ کی وجہ سے پہلی پوزیشن پر ہے۔ محمد رضوان کی قیادت میں دفاعی چیمپٔن خیبر پختونخوا صفر اعشاریہ پانچ تین صفر کے ساتھ دوسرے، بابر اعظم کی سینٹرل پنجاب صفر اعشاریہ چار پانچ آٹھ کے ساتھ تیسرے اور شاداب خان کی ناردرن صفر اعشاریہ تین چھ ایک کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔

چاروں ٹیموں نے چھ چھ میچز کھیلے ہیں جن میں چار میں انہیں کامیابی اور دو میں ناکامی ہوئی۔ پانچویں پوزیشن پر موجود امام الحق کی بلوچستان کے چھ میچز کے بعد چار اور صہیب مقصود کی سدرن پنجاب کا کوئی پوائنٹ نہیں۔

اس وقت ایونٹ کے ٹاپ پرفارمرز پر نظر ڈالی جائے تو بلے بازوں پر سب سے پہلے نمبر پر بابر اعظم موجود ہیں۔ انہوں نے سینٹرل پنجاب کی قیادت کرتے ہوئے چھ میچز میں 71 اعشاریہ پانچ صفر کی اوسط سے 286 رنز بنائے۔ ان کی اس کارکردگی میں ایک سینچری اور دو نصف سینچریاں شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کے صاحبزادہ فرحان 220 اور سندھ کے شرجیل خان 212 رنز کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

بالرز میں خیبر پختونخوا کے شاہین شاہ آفریدی چھ میچز میں 17 اعشاریہ ایک چھ کی اوسط سے 12 وکٹوں کے ساتھ نمایاں ہیں۔ سینٹرل پنجاب کے وہاب ریاض، خیبر پختونخوا کے آصف آفریدی، سندھ کے شاہنواز داہانی، سینٹرل پنجاب کے حسن علی، ناردرن کے حارث رؤف اور خیبر پختونخوا کے عمران خان 9، 9 وکٹوں کے ساتھ بالترتیب دوسرے سے چھٹے نمبر پر موجود ہیں۔

کھلاڑیوں کی کارکردگی

پاکستان کی نیشنل ٹیم میں موجود چند کھلاڑیوں نے توقعات کے مطابق شاندار کھیل پیش کیا، وہیں چند کھلاڑیوں کی کارکردگی نے شائقین کو مایوس بھی کیا۔

اگر بلے بازوں پر نظر ڈالی جائے تو بابر اعظم، محمد رضوان اور محمد نواز کے علاوہ دیگر کھلاڑیوں کی کارکردگی واجبی سی رہی۔

بابر اعظم ایونٹ میں سینچری بناکر سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی سینچریاں بنانے والے پاکستانی کھلاڑی بن گئے جب کہ وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان اب تک ایونٹ کے چھ میچز میں 32 اعشاریہ ایک چھ کی اوسط سے 193 رنز بنانے میں کامیاب رہے ہیں، جس میں دو نصف سینچریاں شامل ہیں۔

محمد نواز نے بھی 59 اعشاریہ 33 کی اوسط سے ایونٹ میں اب تک 178 رنز اسکور کر کے میگا ایونٹ سے قبل اپنے مخالفین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ نوجوان آل راؤنڈر محمد وسیم نے بھی چار میچز میں 45 کی اوسط سے 45 رنز بنا کر قومی ٹیم میں اپنی پوزیشن مستحکم کرلی ہے۔

دیگر کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو آل راؤنڈر افتخار احمد نے چھ میچز میں 57 کی اوسط سے 171 رنز بنائے لیکن ان کی اس کارکردگی میں ان کی بلے بازی سے زیادہ ان کے تین مرتبہ ناقابل شکست رہنے کا ہاتھ ہے۔ بلے باز صہیب مقصود نے بھی افتخار احمد جتنے ہی رنز بنائے ہیں لیکن ان کی اوسط کم، اور نصف سینچریوں کی تعداد بہتر ہے۔

مڈل آرڈر میں شامل آصف علی نے اب تک ایونٹ میں 103 رنز اسکور کیے ہیں لیکن وہ ایک بار بھی ففٹی کا ہندسہ عبور نہ کرسکے۔

ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل اعظم خان کی پرفارمنس مایوس کن رہی۔ انہوں نے ایونٹ میں 16 اعشاریہ چھ چھ کی اوسط سے صرف 100 رنز بنائے، خوش دل شاہ بھی 16 اعشاریہ تین تین کی اوسط سے 98 رنز بنا سکے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان بھی بیٹنگ میں کوئی کمال نہ دکھا سکے۔ انہوں نے 23 اعشاریہ پانچ کی اوسط سے 94 رنز اسکور کیے۔

آل راؤنڈرز عماد وسیم اور حسن علی بھی بیٹنگ میں وہ جادو نہ دکھا سکے جس کی ان سے توقع تھی۔ دونوں آل راؤنڈرز بالترتیب 45 اور 43 رنز بنا سکے۔

بالنگ کے شعبے میں تمام بالرز نے اس ایونٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی۔ جس میں شاہین شاہ آفریدی 12، حسن علی اور حارث رؤف 9، 9، محمد نواز اور محمد حسنین چھ چھ وکٹوں کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔

نوجوان آل راؤنڈر محمد وسیم نے چار میچز میں پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے اپنی آل راؤنڈ صلاحیتیں دکھائیں۔ شاداب خان چھ میچز میں چار اور عماد وسیم پانچ میچز میں صرف تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے باہر ہونے والے کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے لیے جب اسکواڈ کا اعلان ہوا تھا تو اس پر شائقین کرکٹ کے ساتھ ساتھ ماہرین نے بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔ اس لیے جن کھلاڑیوں کو سلیکٹرز نے اسکواڈ میں شامل نہیں کیا تھا ان کے پاس اپنا لوہا منوانے کے لیے اس سے بہتر اور کوئی موقع نہیں تھا۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں متبادل کھلاڑیوں میں موجود شرجیل خان ایونٹ کے تیسرے اور آؤٹ آف فارم ہونے کی وجہ سے آؤٹ آف ٹیم ہونے والے حیدر علی نیشنل ٹی ٹوئنٹی میں چوتھے کامیاب بلے باز ہیں۔

شرجیل خان نے ایونٹ میں اب تک 212 جب کہ حیدر علی نے 208 رنز اسکور کیے ہیں۔

سابق کپتان شعیب ملک بھی چار میچز میں 140 کی اوسط سے 140 رنز بناکر بارہویں کامیاب بلے باز ہیں۔ ایونٹ میں اب تک ان سے بہتر اوسط کسی اور بلے باز کی نہیں رہی ہے۔

فخر زمان انجری کی وجہ سے ایونٹ میں صرف تین میچز کھیل سکے لیکن ایک میچ میں انہیں مین آف دی میچ کا ایوارڈ ملا تھا۔ انہی کی ٹیم کے صاحبزادہ فرحان کی جارحانہ بیٹنگ نے ایونٹ میں بالرز کو پریشان کر رکھا ہے اور وہ ایونٹ کے دوسرے ٹاپ اسکورر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

قومی ٹیم کے متبادل کھلاڑیوں میں شامل لیگ اسپنر عثمان قادر نے ایونٹ میں اب تک صرف پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے جو دیگر لیگ اسپنرز شاداب خان سے زیادہ، اور زاہد محمود سے کم ہے جنہوں نے سات وکٹیں حاصل کیں۔

فاسٹ بالرز شاہنواز داہانی اور وہاب ریاض چھ چھ میچز میں نو نو وکٹیں حاصل کر کے سلیکٹرز کو متوجہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں جب کہ انجری سے کم بیک کرنے والے رومان رئیس بھی آٹھ وکٹوں کے ساتھ پیچھے نہیں۔

اور آخر میں بات وکٹ کیپروں کی تو پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد کی ٹیم اس وقت ایونٹ کی ٹاپ ٹیم ہے اور چھ میچز میں 32 اعشاریہ سات پانچ کی اوسط سے 131 رنز بنا کر وہ ٹورنامنٹ کے پندرہ بہترین بلے بازوں میں شامل ہیں۔ وہ وکٹ کے عقب میں آٹھ شکاروں کے ساتھ وکٹ کیپرز کی فہرست میں بھی ٹاپ پر ہیں۔

روحیل نذیر سات، بسم اللہ خان اور قومی ٹیم کے وکٹ کیپر محمد رضوان پانچ پانچ اور محمد اخلاق چار شکاروں کے ساتھ سرفراز احمد سے پیچھے ہیں۔

قومی ٹیم میں متبادل وکٹ کیپر کے طور پر شامل اعظم خان کی وکٹ کے پیچھے بھی کارکردگی مایوس کن رہی اور اب تک وہ چھ میچز میں صرف ایک کیچ اور دو اسٹمپ ہی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ: دوسرے مرحلے میں کتنے میچز کھیلے جائیں گے؟

بدھ سے شروع ہونے والے ایونٹ کے دوسرے مرحلے میں مجموعی طور پر 12 لیگ میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر ٹیم چار چار میچز کھیلے گی جس کے بعد سیمی فائنل لائن اپ کا فیصلہ ہو جائے گا۔

چھ اکتوبر کو سندھ اور سینٹرل پنجاب کے درمیان میچ سے ایونٹ کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگا جو 11 اکتوبر کو ناردرن اور خیبر پختونخوا کے میچ کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گا۔

فی الحال تو ایونٹ کی ٹاپ چار ٹیمیں ہی سیمی فائنل کے لیے فیورٹ نظر آرہی ہیں، لیکن میدان بدلنے کے ساتھ ہی کچھ ٹیموں اور کھلاڑیوں کی قسمت بھی بدل سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG