رسائی کے لنکس

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو بھارت سے دھمکی آمیز ای میل کی گئی؛ پاکستان کا الزام


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم پر حملے کی دھمکی آمیز ای میل بھارت سے کی گئی تھی۔ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) انٹرپول کے ساتھ مل کر اس کی تحقیقات کرے گا۔

بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو دھمکی آمیز ای میل بھارت سے کی گئی تھی جس کے لیے وی پی این استعمال کی گئی جس میں ای میل کا مقام سنگاپور ظاہر کیا گیا۔

ان کے بقول جس ڈیوائس سے ای میل کی گئی اس ڈیوائس میں مزید 13 ای میل آئی ڈیز ہیں اور اس آئی ڈی کے ساتھ منسلک باقی آئی ڈیز کے نام ہندی میں ہیں۔

ای میل جس موبائل فون سے کی گئی اس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ڈیوائس 2019 میں لی گئی تھی۔ اس میں استعمال ہونے والی موبائل سم 15 ستمبر 2019 میں رجسٹر ہوئی اور اس سم کے مالک ممبئی میں مقیم ہیں۔

دھمکی آمیز ای میل کے حوالے سے انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ 'حمزہ آفریدی' کے نام سے آئی ڈی اس لیے بنائی گئی تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ دھمکی پاکستان سے ہی دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارتِ داخلہ نے اس معاملے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات کے لیے انٹرپول سے مدد کی درخواست کی جائے گی جب کہ ایف آئی اے انٹرپول کے ساتھ مل کر اس کی تحقیقات کرے گا۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات کے مطابق نیوزی لینڈ کے دورۂ پاکستان سے قبل 19 اگست کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کی ایک جعلی سوشل میڈیا آئی ڈی کے ذریعے نیوزی لینڈ کو دھمکی دی گئی تھی۔

ان کے بقول سوشل میڈیا پر شیئر کردہ ایک پوسٹ کی بنیاد پر 21 اگست کو ایک بھارتی صحافی نے مضمون لکھا تھا جب کہ ایک جعلی آئی ڈی سے نیوزی لینڈ کے کھلاڑی مارٹن گپٹل کی اہلیہ کو ان کے شوہر کے حوالے سے دھمکی آمیز ای میل بھی گئی البتہ ان خدشات کے باوجود کیویز ٹیم نے پاکستان کا دورہ منسوخ نہیں کیا۔

فواد چوہدری کے مطابق کیویز ٹیم 11 ستمبر کو پاکستانی پہنچی جس کے بعد 13 اور 14 ستمبر کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں نے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں طویل پریکٹس سیشن کیے۔ بعد ازاں 16 ستمبر کو بھی گراؤنڈ جا کر دونوں ٹیموں نے طویل پریکٹس سیشن کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 17 ستمبر کو نیوزی لینڈ کی ٹیم نے ممکنہ حملے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا دورہ منسوخ کیا اور ٹیم واپس چلی گئی۔

اسلام آباد سے وائس آف امریکہ کے نمائندے عاصم علی رانا کے مطابق فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ دورہٴ نیوزی لینڈ جب منسوخ ہونے کا اعلان ہو رہا تھا اس وقت شنگائی تعاون تنظیم کا اجلاس جاری تھا۔ اس خبر کے آنے کے وقت وزیرِ اعظم عمران خان کی تقریر ہونے والی تھی۔ تقریر سے 15 منٹ قبل پیغام ملا کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم دورہ منسوخ کر رہی ہے۔ باہمی مشورے سے یہ خبر وزیرِ اعظم کو ان کی تقریر سے قبل نہیں دی گئی۔

حملے کے خدشات کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ 18 ستمبر کو نیوزی لینڈ کے دارالحکومت ویلنگٹن میں انٹرپول نے اسلام آباد میں انٹرپول سے رابطہ کر کے آگاہ کیا کہ 'حمزہ آفریدی' کے نام سے ایک ای میل آئی ڈی سے نیوزی لینڈ کی ٹیم پر حملے کی دھمکی دی گئی۔ یہ ای میل نیوزی لینڈ کی پولیس کو بھیجی گئی تھی۔

مستقبل میں پاکستان آنے والی ٹیموں کے حوالے سے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم دسمبر میں پاکستان آ رہی ہے اور اسے ابھی سے حملے کے خدشات کی دھمکیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

بھارت پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ مہم پاکستان کے خلاف نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کے خلاف ایک مہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی حکومت کو چاہیے کہ ان کی ٹیم کو ملنے والی دھمکیوں کی معلومات کا پاکستان کے ساتھ تبادلہ کرے تاکہ پاکستان کے ادارے اس پر بھی تحقیق کر سکیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر ماضی میں بھی دہشت گردی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں جب کہ اسلام آباد اور نئی دہلی ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر تردید کرتے رہے ہیں۔

انگلینڈ کی ٹیم کے دورے کی منسوخی کے حوالے سے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ تخمینہ لگا رہے ہیں کہ پاکستان کو کتنا نقصان ہوا اس پر برطانیہ میں کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سیریز کی اچانک منسوخی کے بعد انگلینڈ نے بھی اپنا دورۂ پاکستان منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انگلش کرکٹ بورڈ نے آئندہ ماہ ہونے والی سیریز کے لیے مردوں اور خواتین دونوں ٹیموں کو فی الحال پاکستان بھیجنے سے معذرت کی ہے۔ انگلش کرکٹ بورڈ نے اپنے اعلان میں کہا تھا کہ ای سی بی نے پاکستان میں مرد و خواتین ٹیم کے کھیلنے کی صورتِ حال کا جائزہ لیا اور دونوں ٹیموں کے اکتوبر کے دورے سے دست برداری کا فیصلہ کیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کی سیکیورٹی پر اتنے اہلکار تعینات کیے تھے کہ جتنی نیوزی لینڈ کی فوج بھی نہیں ہے۔

شیخ رشید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کو کوئی تنہا نہیں کر سکتا۔ سیکیورٹی ادارے مستعد ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کراتا ہے۔ البتہ پاکستان کا بیانیہ امن ہے اور امن ہی آگے بڑھے گا۔

پاکستان کے وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس میں بھارت سے ای میل پر نئی دہلی سے فوری طور پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG