رسائی کے لنکس

logo-print

کیمیائی حملہ شامی حکومت نے ہی کیا تھا، نیٹو


اگر شام میں پیش آنے والے واقعے پر عالمی برادری نے سخت ردِ عمل ظاہر نہ کیا تو اس سے دنیا بھر کے آمر حکمرانوں کو شہہ ملے گی: راسموسن

مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد 'نیٹو' کے سربراہ نے کہا ہے کہ انہیں دستیاب شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ دمشق کے نواح میں 21 اگست کو کیا جانے والا کیمیائی حملہ شامی حکومت نے ہی کیا تھا۔

پیر کو برسلز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 'نیٹو' کے سیکریٹری جنرل آندرے فوغ راسموسن نے کہا کہ اگر شام میں پیش آنے والے واقعے پر عالمی برادری نے سخت ردِ عمل ظاہر نہ کیا تو اس سے دنیا بھر کے آمر حکمرانوں کو شہہ ملے گی۔

تاہم نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا موقف تھا کہ ان کا نہیں خیال کہ شام کو سبق سکھانے کے لیے دفاعی اتحاد کو کوئی کردار ادا کرنا چاہیے بلکہ، ان کے بقول، اس ضمن میں رکن ممالک کو انفرادی طور پر اپنا لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شامی بحران میں نیٹو کا کردار صرف اپنے رکن اور شام کے پڑوسی ملک ترکی کی حفاظت تک ہی محدود رہے گا۔

راسموسن نے کہا کہ انہیں جو "ٹھوس معلومات" پیش کی گئی ہیں اس کی بنیاد پر وہ یقین سے نہ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ شام میں واقعی کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں بلکہ انہیں یقین ہے کہ ان ہتھیاروں کے استعمال میں صدر بشار الاسد کی حکومت ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں اتفاقِ رائے ہے کہ مستقبل میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کے لیے عالمی برادری کو شام کی سرزنش کرنی چاہیے۔

راسموسن کا کہنا تھا کہ اگر شام کو سبق سکھانے کے لیے کسی فوجی کاروائی کا فیصلہ کیا گیا تو ان کا خیال ہے کہ یہ ایک مختصر،محدود اور نپا تلا حملہ ہوگا اور اس نوعیت کے چھوٹے حملے کے لیے 'نیٹو' کے 'کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم' کو متحرک کرنے کی ضرورت نہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ کے صدر براک اوباما شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے پر صدر بشار الاسد کی حکومت کےخلاف فوجی حملے کا اعلان کرچکے ہیں تاہم انہوں نے اس کاروائی کو کانگریس کی اجازت سے مشروط کیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں دستیاب شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ 21 اگست کو دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے میں اسد حکومت کی فوجوں نے 'سیرین' نامی اعصاب شکن گیس کا حملہ کیا تھا جس سے 1400سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
XS
SM
MD
LG