رسائی کے لنکس

logo-print

نیٹو افغانستان سےقبل از وقت انخلاء کے حق میں نہیں


نیٹو کے سیکرٹری جنرل اینڈرس فاگ راسموسن نے کہا ہے کہ اُن کی تنظیم کی افواج افغانستان سے انخلاء کے لیے کسی ڈیڈلائن کی پابند نہیں اور ایسا کوئی بھی فیصلہ زمینی حقائق کو مدِنظر رکھ کر کیا جائے گا۔

پاکستان کے اپنے پہلے دورے کے دوران بدھ کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی افواج قبل از وقت افغانستان سے نکل جاتی ہیں تو اس بات کو قوی امکان ہے کہ طالبان ملک میں اپنا اثر و رسوخ دوبارہ قائم کرکے افغانستان کو ایک بار پھر عالمی دہشت گرد تنظیمو ں کی آماجگا ہ میں تبدیل کردیں گے۔

انھوں نے خطے میں پاکستان کے کردار کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرحد کے قریب قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیاں علاقائی سکیورٹی کی مجموعی صورت حال کو بہتر کرنے میں کلید ی کردار ادا کریں گی۔ راسموسن نے کہا کہ پاکستان کی یہ کوششیں قابل ستائش ہیں۔

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیٹو اور پاکستان کے درمیان تعاون صرف افغانستان تک محدود نہیں اور سیکریٹر ی جنرل راسمسن نے باہمی تعاون کے لیے سیاسی و فوجی سطح پر شراکت داری اور بات چیت کے لیے ایک فریم ورک تجویز کیا ہے جس کا پاکستانی حکومت نے مثبت جواب دیا ہے۔

واضع رہے کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل اور شاہ محمود قریشی دونوں نے منگل کو کابل میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی تھی جس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر حامد کرزئی نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ 2014 ء تک افغان فوج اور پولیس ملک کی سیکورٹی کی ذمہ داری خود سنبھالنے کے قابل ہو جائیں گی۔

یہ کانفرنس ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب افغانستان نے میں طالبان عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں غیر معمولی شدت آئی ہے اور جون میں ہلاک ہو نے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد گزشتہ نو سالوں میں سب سے زیادہ تھی۔

XS
SM
MD
LG