رسائی کے لنکس

’پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ‘


دہشت گردوں نے حملے میں بحریہ کے دو طیاروں کو بھی تباہ کردیا تھا (فائل فوٹو)

نیٹو کے سربراہ اینڈرس فاگ راسموسن نے کہا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہیں تاہم اُنھوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی حفاظت کا معاملہ تنظیم کے لیے بہر حال باعث تشویش ہے اور وہ اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

منگل کو کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں راسموسن کا کہنا تھا کہ ’’جتنی خفیہ اور دیگر معلومات میرے پاس ہیں ان کی بنیاد پر میں اعتماد سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہیں اوربہت اچھی طرح اُن کا تحفظ کیا گیا ہے۔‘‘

کراچی میں بحریہ کی ایک اہم تنصیب پر اتوار کی شب حملے میں گنتی کے چند عسکریت پسندوں کے ہاتھوں پاکستانی مسلح افواج کو ہونے والے جانی ومالی نقصان کے بعد مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں دفاعی نوعیت کے دیگر اثاثوں بشمول پاکستان کی جوہر ی تنصیبات کے حفاظتی انتظامات موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔

اس سے قبل دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی فورسز کے خفیہ آپریشن میں القاعدہ کے مفرور سربراہ اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے واقعہ پر پاکستانی فوج پہلے ہی کڑی تنقید کی زد میں تھی جس میں اب مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز پرہونے والے مذاکروں اور اخبارا ت کے اداریوں میں بھی اس امر پر تشویش اور تعجب کا اظہار کیا جار ہا ہے کہ کراچی میں نیوی کی اس قدر اہم تنصیب میں عسکریت پسندنہ صرف داخل ہونے میں کامیاب ہوئے بلکہ وہاں موجود دفاعی اعتبار سے قمیتی جہازوں کو تباہ کرنے کے علاوہ 10 سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک اور سکیورٹی فورسز کو 16 گھنٹوں تک لڑائی میں مصروف رکھا۔

اخبارات نے اپنے ادایوں میں فوج کے خلاف سخت موقف کا اظہار کیا ہے جب کہ غیر جانب دار مبصرین فوج کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

روزنامہ جنگ نے اپنے اداریے میں مہران بیس پر حملے کو ’’سکیورٹی فورسز کی کمزوری‘‘ اور ’’پریشان کن غفلت‘‘ قرار دیا ہے۔ انگریزی روزنامہ ڈان اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ اس حملے میں طالبان عسکریت پسندوں کی فوج کے اندر عناصر کی مدد کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پہلے بھی متعدد حملوں میں شواہد سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔

اتوار کی شب فوجی اڈاے پر کھڑے دو پی تھری سی اورین طیاروں کو بھی عسکریت پسندوں نے راکٹوں سے حملہ کر کے تباہ کردیا تھا جن کی مالیت تقریباً آٹھ کروڑ ڈالر تھی۔

دفاعی ماہرین کے خیال میں امریکہ سے حاصل کیے گئے ان جہازوں کے ناکارہ ہونے سے سمندری حدود کی حفاظت اور انسداد دہشت گردی کی بین الاقوامی سرگرمیوں میں شرکت کرنے کی پاکستان کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG