رسائی کے لنکس

logo-print

روسی اپوزیشن رہنما نوالنی کا پوٹن پر زہر دینے کا الزام


الیکسی نوالنی جرمنی میں 32 روز سے زیرِ علاج تھے۔

روس میں حزبِ اختلاف کے رہنما الیکسی نوالنی نے ایک جرمن میگزین کے ساتھ انٹرویو میں دعوی کیا ہے کہ انہیں زہر دیے جانے کے پیچھے روس کے صدر ولادی میر پوٹن کا ہاتھ ہے ۔

میگزین ڈیاشپیگا (مرر) نے جمعرات کو نوالنی کے انٹرویو سے جو اقتباسات جاری کیے ہیں، ان میں نوالنی نے کہا کہ ان کے پاس اس بارے میں بتانے کو کچھ نہیں ہے کہ یہ جرم کا ارتکاب کس طرح کیا گیا۔ دوسری جانب روس کی حکومت نے نوالنی کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کسی بھی طرح ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

نوالنی 20 اگست کو ایک پرواز کے دوران بیمار ہو گئے تھے اور انہیں ابتدائی طور پر سائبریا کے شہر اومسک میں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

روسی ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ نوالنی کو زہر نہیں دیا گیا۔ تاہم جب نوالنی کو علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا گیا تو وہاں ڈاکٹروں نے لبارٹری سے کرائے گئے ٹیسٹوں کے بعد تصدیق کی کہ اُنہیں ایک اعصاب شکن مواد ’نووی چاک‘ کے ذریعے زہر دیا گیا تھا۔ اسی طرح کا مواد ایک سابق ایجنٹ پر بھی استعمال کیا گیا تھا جب وہ برطانیہ میں موجود تھے۔

نوالنی، پوٹن پر متواتر سخت تنقید کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے جرمن میگزین کو بتایا کہ وہ بہت جلد روس واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

"میرا کام ہے کہ میں ڈٹ کر کھڑا رہوں اور میں خوف زدہ نہیں ہوں‘‘

الیکسی نوالنی اگست میں زہر خورانی کے باعث فضائی سفر کے دوران شدید علیل ہونے کے بعد کوما میں چلے گئے تھے۔ اُنہیں علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ 32 روز تک زیرِ علاج رہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نوالنی مکمل طور پر صحت یاب ہو سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے بھی روس پر زور دیا تھا کہ وہ نوالنی کو مبینہ طور پر زہر دیے جانے کے واقعے کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائے۔

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مچل بیچلیٹ نے گزشہ ماہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ نوالنی کو زہر دیے جانے کا جرم روسی سر زمین پر ہوا ہے۔ اس لیے یہ روسی حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیقات کریں کہ اس جرم کے ذمہ داران کون ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG