رسائی کے لنکس

logo-print

نواز شریف اور مریم پاکستان کے لیے روانہ، پارٹی کارکن اور نیب منتظر


نواز شریف کی پاکستان کے لیے روانگی

نواز شریف اور مریم نواز لندن سے لاہور کے لیے نکل چکے ہیں ۔ وہ ابوظہبی کے راستے جمعہ 13 جولائی کو پاکسانی وقت کے مطابق شام سوا چھ بجے لاہور کے ایئر پورٹ پر اترے گا۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز لندن سے پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں جہاں انہیں گرفتار کرنے کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکام نے اپنی حکمتِ عملی تیار کر لی ہے جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عہدے دار اور کارکن بھی نواز شریف کے استقبال کے لیے انتظامات کو آخری شکل دے رہے ہیں۔

لاہور سے ہمارے نمائندے کنور رحمان خان کے مطابق شہر کی جانب آنے والی مختلف مرکزی شاہراہوں کو کنٹینر رکھ کر بند کردیا گیا ہے جب کہ ہوائی اڈے کی جانب جانے والے راستوں پر بھی کنٹینر لگا دیے گئے ہیں۔

نواز شریف کی آمد کے موقع پر امن و امان کی صورتِ حال برقرار رکھنے کی غرض سے حکومت نے لاہور ایئرپورٹ، اندرون شہر اور دیگر علاقوں میں دوپہر تین بجے سے رات 11 بجے تک موبائل فون سروس بند رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور اس بارے میں نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

شہر بھر میں جمعے کی صبح سے ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جب کہ ہوائی اڈے پر پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کردی گئی ہے۔ شہر میں میٹرو بس سروس بھی معطل ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے خلاف پنجاب پولیس کا کریک ڈاؤن جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب بھی جاری رہا جس کے دوران پولیس نے لاہور اور اس کے نواحی اضلاع کے کئی شہروں اور قصبوں سے ن لیگ کے مزید درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ نواز شریف کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ جائیں گے۔

لیگی رہنماؤں نے کارکنوں کو لاہور کی لوہاری مسجد جمع ہونے کی کال دی ہے جہاں سے شہباز شریف کی قیادت میں پارٹی کا مرکزی قافلہ نمازِ جمعہ کے بعد ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوگا۔

شہباز شریف نے گرفتار کیے جانے والے اپنے پارٹی کے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پنجاب کی عبوری حکومت پر انتخابات میں دھاندلی کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔

نواز شریف کی 84 سالہ والدہ نے وائس آف امریکہ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اپنے بیٹے اور پوتی کے ساتھ جیل جائیں گی۔

گرفتاری اور استقبال کے اس عمل میں پنجاب کی عبوری حکومت اپنا ایک الگ کردار ادا کر رہی ہے اور ہمارے نمائندوں کے مطابق شہر بھر سے مسلم لیگ نون کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاکہ وہ لوگوں کو ایئر پورٹ پر لانے کے لیے کردار ادا نہ کر سکیں۔

مریم نواز کی پاکستان کے لیے روانگی
مریم نواز کی پاکستان کے لیے روانگی

پولیس شہر بھر میں کنٹینرز ٹرکوں کو روک رہی ہے۔ ٹرک ڈرائیوروں نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ پولیس نے انہیں کہا ہے کہ نواز شریف کی آمد پر لوگوں کو روکنے کے لیے راستے بند کرنے ہیں۔ جس کے لیے کنٹینروں کی ضرورت ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی دو ٹیمیںلاہور ایئر پورٹ پر تعینات کر دی گئی ہیں اور انہیں دو ہیلی کاپٹر بھی فراہم کر دیے گئے ہیں تاکہ نواز شریف اور مریم نواز جیسے ہی لاہور ایئر پورٹ پر اتریں، انہیں گرفتار کر کے اسلام آباد پہنچا دیا جائے۔

متبادل انتظام کے طور پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر بھی نیب کے عہدے دار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور کی صورتِ حال کے پیشِ نظر نواز شریف کے طیارے کا رخ اسلام آباد کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کو اپنی سزائیں کاٹنے کے لیے اڈیالہ جیل بھیجا جائے گا جہاں کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر پہلے سے قید ہیں۔

نواز شریف اور مریم نواز پاکستان واپسی سے قبل اسپتال میں کلثوم نواز سے مل رہے ہیں جو بہت دنوں سے بے ہوشی کی حالت میں ہیں۔
نواز شریف اور مریم نواز پاکستان واپسی سے قبل اسپتال میں کلثوم نواز سے مل رہے ہیں جو بہت دنوں سے بے ہوشی کی حالت میں ہیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 سال اور کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف پر کرپشن کا الزام ثابت نہیں ہوا تاہم لندن کی پراپرٹی ان کے ذرائع آمدنی سے زیادہ مالیت کی ہے۔ لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس نواز شریف کے بیٹے کے نام پر ہیں۔ عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جس وقت یہ اپارٹمٹس خریدے گئے تھے اس وقت ان کے بیٹے کم عمر تھے۔

لندن سے پاکستان کے لیے روانگی کے وقت کی کچھ تصویریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔

ایک ویڈیو نواز شریف کے نواسے جنید صفدر اور پوتے ذکریا شریف کی گرفتاری کی بھی ہے۔ لندن پولیس نے انہیں ایون فیلڈ اپارٹمنس کے سامنے مظاہرہ کرنے والے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں سے لڑائی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر کئی دنوں سے پی ٹی آئی کے کارکن مظاہرے کر رہے ہیں ، جب کہ مسلم لیگ نون کے ورکر بھی وہاں دیکھے جار ہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان مخالفانہ نعرے بازی کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG