رسائی کے لنکس

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے قومی احتساب بیورو کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 24 گھنٹے میں اُن پر لگائے گئے الزامات سے متعلق حقائق سامنے لائیں، بصورت دیگر ’’قوم سے کھلے عام معافی مانگیں۔‘‘

واضح رہے کہ نیب کی طرف سے منگل کو ایک پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف مبینہ طور پر 4 ارب 90 کروڑ ڈالر کی رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت بھجوانے کی میڈیا رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے شکایت کی جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے۔

نیب چیئرمین اس اقدام کے بعد مسلسل تنقید کی زد میں ہیں۔

نواز شریف نے جمعرات کو پنجاب ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’’اس کھلے تعصب کا مظاہرہ کرنے کے بعد وہ (چیئرمین نیب) اس منصب پر قائم رہنے کا جواز کھو چکے ہیں۔ لہذا، فوری طور پر استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔‘‘

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اُن کی قانونی ٹیم نے مشاورت شروع کر دی ہے، اور اُن کے بقول، آنے والے دنوں میں اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ نیب کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو، اُن کے بقول، ’’نظر انداز کرنا ملک کے پورے سیاسی، جمہوری اور آئینی نظام کو خطرے میں ڈالنا ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG