رسائی کے لنکس

نواز شریف اس وقت وفاقی دارالحکومت میں واقع پنجاب ہاؤس میں ہیں جہاں سے وہ کچھ دیر میں اپنے سفر کا آغاز کریں گے۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی کی طرف سے پاناما لیکس سے متعلق مقدمے میں نااہلیت کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف بدھ کو اسلام آباد سے لاہور روانہ ہو رہے ہیں۔

نواز شریف اس وقت وفاقی دارالحکومت میں واقع پنجاب ہاؤس میں ہیں جہاں سے وہ اپنے سفر کا آغاز کریں گے۔

وہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ’ڈی چوک‘ پہنچنے کے بعد فیض آباد اور راولپنڈی سے ہوتے ہوئے براستہ جی ٹی روڈ لاہور جائیں گے اور اس دوران راستے میں پڑنے والے مختلف شہروں میں ن لیگ کے کارکنان سے خطاب بھی کریں گے۔

اس موقع پر سکیورٹی کا ایک خصوصی پلان تشکیل دیا گیا ہے لگ بھگ 1200 افراد نواز شریف کی سیکورٹی پر مامور کیے گئے ہیں۔

نواز شریف کے قافلے کے ہمراہ لاہور جانے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور کارکن مختلف علاقوں سے اسلام آباد پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

نواز شریف کے پولیٹیکل سیکریٹری سینیٹر آصف کرمانی نے کچھ دیر قبل پنجاب ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ کئی شخصیات نے سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر نواز شریف کو ’جی ٹی‘ روڈ کے ذریعے لاہور نہ جانے کا مشورہ دیا لیکن اُن کے بقول نواز شریف نے طے شدہ منصوبے کے تحت لاہور جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبہ پنجاب، خاص طور پر لاہور روایتی طور پر نواز شریف کا سیاسی گڑھ رہا ہے۔

نواز شریف اور اُن کی جماعت مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے کہ انہوں نے عدالتی فیصلے پر تحفظات کے باجود عمل درآمد کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کی جائے گی جب کہ نواز شریف اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں لے کر جائیں گے۔

حزبِ مخالف کی جماعتوں خاص طور پر تحریک انصاف کی طرف سے نواز شریف کی اس ریلی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جاتا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم اداروں پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔

تاہم مسلم لیگ (ن) کے عہدیدار ان الزامات کی نفی کرتے ہوئے کہتے آئے ہیں کہ اُن کی جماعت کسی طرح کا ٹکراؤ نہیں چاہتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG