رسائی کے لنکس

الیکشن کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پولیٹکل پارٹیز آرڈر 2002 کے تحت نااہل قرار دیا گیا قانون ساز کسی سیاسی جماعت کا بھی کوئی عہدہ نہیں رکھ سکتا۔

پاکستان میں الیکشن کمیشن نے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو نوٹس جاری کیا ہے کہ وہ اپنی جماعت کا نیا سربراہ منتخب کرے اور اس بارے میں کمیشن کو آگاہ کیا جائے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پولیٹکل پارٹیز آرڈر 2002 کے تحت نااہل قرار دیا گیا قانون ساز کسی سیاسی جماعت کا بھی کوئی عہدہ نہیں رکھ سکتا۔

نواز شریف کو پاکستان کی عدالت عظمٰی کی پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق ایک مقدمے میں 28 جولائی کو نا اہل قرار دے دیا تھا جس کے فوراً بعد نواز شریف اپنے منصب سے الگ ہو گئے تھے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اپنے پارٹی آئین کے مطابق اگر جماعت کے صدر کا منصب خالی ہو جائے تو ایک ہفتے میں نیا صدر بنا دیا جائے گا۔

کمیشن کی طرف سے یہ نوٹس ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب نواز شریف عدالت عظمٰی سے اپنی نا اہلی کے بعد پہلی مرتبہ بدھ کو اسلام آباد سے لاہور روانہ ہوں گے۔

اس ضمن میں منگل کو ایک مرتبہ پھر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ میاں نواز شریف کی ریلی کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے۔

نواز شریف اور اُن کی جماعت نے ملک کی مرکزی شاہراہ ’جی ٹی روڈ‘ کے ذریعے لاہور جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبہ پنجاب، خاص طور پر لاہور روایتی طور پر نواز شریف کا سیاسی گڑھ رہا ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اُن کی اس ریلی کا مقصد سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنا ہے۔

نواز شریف اور اُن کی جماعت مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے کہ انہوں نے عدالتی فیصلے پر تحفظات کے باجود عمل درآمد کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کی جائے گی جب کہ نواز شریف اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں لے کر جائیں گے۔

نواز شریف گزشتہ ہفتے مری سے اسلام آباد پہنچے تھے
نواز شریف گزشتہ ہفتے مری سے اسلام آباد پہنچے تھے

حزبِ مخالف کی جماعتوں خاص طور پر تحریک انصاف کی طرف سے نواز شریف کی اس ریلی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا جاتا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم اداروں پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔

تاہم مسلم لیگ (ن) کے عہدیدار ان الزامات کی نفی کرتے ہوئے کہتے آئے ہیں کہ اُن کی جماعت کسی طرح کا ٹکراؤ نہیں چاہتی۔

جی ٹی روڈ کے ذریعے نواز شریف کی اس ریلی کو رکوانے کے لیے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل عثمان سعید نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔

منگل کو سماعت کے دوران درخواست گزار کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اس ریلی کا مقصد سپریم کورٹ اور احتساب عدالت پر دباؤ ڈالنا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ زیادہ تر ریلی صوبہ پنجاب میں نکالی جائے گی اور وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی حدود میں سے باہر ہے۔ تاہم عدالت نے دلائل کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG