رسائی کے لنکس

نیب ریفرنسز: نواز شریف، مریم نواز کو حاضری سے استثنیٰ مل گیا


نواز شریف بدھ کو احتساب عدالت میں پیشی کے لیے آرہے ہیں

سابق وزیرِاعظم کے صاحب زادوں حسن اور حسین نواز کو اشتہاری ملزم قرار دینے کی کارروائی بھی آئندہ سماعت تک مؤخر کردی گئی ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحب زادی مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں لندن جانے کی اجازت دے دی ہے۔

نواز خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت 22 نومبر تک ملتوی کردی گئی ہے جب کہ آئندہ سماعت پر استغاثہ کے چار گواہان کو طلبی کے سمن جاری کردیے گئے ہیں۔

سابق وزیرِاعظم کے صاحب زادوں حسن اور حسین نواز کو اشتہاری ملزم قرار دینے کی کارروائی بھی آئندہ سماعت تک مؤخر کردی گئی ہے۔

نواز شریف، اپنی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے ہمراہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر ریفرنسز کی سماعت کے موقع پر بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف بیرونِ ملک جائیدادوں سے متعلق ریفرنسز کی سماعت کی۔

نوازشریف نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی کیموتھراپی ہورہی ہے لہذا انہیں 20 نومبر سے ایک ہفتے کے لیے لندن جانے کی اجازت دی جائے۔

مریم نواز نے بھی احتساب عدالت میں درخواست دائر کی جس میں انہوں نے نمائندہ مقرر کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی صورتِ حال میں عدالت میں عدم حاضری پر ان کے نمائندے جہانگیر جدون کو پیش ہونے کی اجازت دی جائے۔

وکیلِ استغاثہ نے دونوں ملزمان کی درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ نہ تو نواز شریف اور نہ ہی مریم نواز بیمار ہیں لہٰذا ان دونوں کو عدالتی کارروائی سے استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا۔

دورانِ سماعت سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی خاتون افسر سدرہ منصور نے ایون فیلڈ ریفرنس میں اپنا بیان قلم بند کرایا جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ جہانگیر احمد کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔

سدرہ منصور نے حدیبیہ پیپر ملز کا ریکارڈ اور 2000ء سے 2005ء کی آڈٹ رپورٹ بھی عدالت میں پیش کردی۔

استغاثہ کے دوسرے گواہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جہانگیر احمد نے بھی بیان ریکارڈ کرادیا اور شریف فیملی کے انکم ٹیکس ریٹرن بھی نیب کو فراہم کردیے۔

وکلائے صفائی نے سدرہ منصور کی فراہم کردہ دستاویزات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ فوٹو کاپیاں ہیں، اصل نہیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے مطابق فوٹو کاپیاں ہی ضروری ہوتی ہیں۔

گواہ سدرہ منصور نے بتایا کہ یہ کاپیاں کمپنیز کی جانب سے ایس ای سی پی کو فراہم کی گئیں جس پر خواجہ حارث نے اعتراض اٹھایا کہ ان دستاویزات پر کمپنیز کی مہر یا سیل بھی موجود نہیں ہے۔

اس کے جواب میں سدرہ منصور نے کہا کہ "جی، نہیں ہیں اور یہ (مہر) ضروری بھی نہیں ہے۔"

سدرہ منصور نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ 2000ء سے 2005ء تک کے آڈٹ کے دوران حدیبیہ پیپر ملز کے اکاؤنٹ میں 49 لاکھ 46 ہزار کی ہی رقم موجود رہی۔

العزیزیہ ملز ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ جہانگیر احمد نے عدالت کو بتایا کہ شریف فیملی کے انکم ٹیکس ریٹرن نیب کو فراہم کردیے تھے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ آپ نے جو ریکارڈ پیش کیا یہ آپ کو دیا گیا، یہ ریکارڈ پہلے آپ کے پاس نہیں تھا۔

گواہ نے بتایا کہ وہ ایف بی آر کا نمائندے ہیں، یہ ریکارڈ ایف بی آر کے پاس تو تھا، وہ زون 2 کا کمشنر رہے ہیں، ریکارڈ براہِ راست کبھی ان کے پاس نہیں رہا۔

گواہان کے بیان ریکارڈ ہونے کے بعد عدالت نے نواز فیملی کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت 22 نومبر تک ملتوی کردی جبکہ مریم نواز کی ایک ماہ اور نوازشریف کی 20 نومبر سے ایک ہفتے کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی منظور کرلی۔

نواز خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت 22 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے چار گواہان کو طلبی کے سمن جاری کیے جبکہ حسن اور حسین نواز کو اشتہاری ملزم قرار دینے کی کارروائی آئندہ سماعت تک مؤخر کردی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG