رسائی کے لنکس

logo-print

آنے والے فریاد سنانے آئے تھے، ہم نے کچھ نہیں دیا: چیف جسٹس


چیف جسٹس ثاقب نثار (فائل فوٹو)

نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی بھی وزیرِ اعظم کو یہ اچھا نہیں لگے گا کہ اس کے بارے میں ایسے ریمارکس دیے جائیں۔ وزیرِ اعظم چاہیں تو اس کی وضاحت طلب کرسکتے ہیں۔

سابق وزیرِ اعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کے آج کے بیان پر وزیرِ اعظم مناسب سمجھیں تو وضاحت طلب کر سکتے ہیں۔

چیف جسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار نے جمعرات کو ایک کیس کی سماعت کے دوران وزیرِ اعظم سے ملاقات کے بارے میں کہا تھا کہ آنے والے فریاد سنانے آئے تھے ہم نے کچھ نہیں دیا۔

سپریم کورٹ میں مری میں تعمیرات سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار اور وکیل لطیف کھوسہ کے درمیان وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے متعلق مکالمہ ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اس میٹنگ میں کھویا کچھ نہیں، بلکہ پایا ہی پایا ہے۔ انہوں نے لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس ادارے اور اپنے بڑے بھائی پر اعتماد کریں، کبھی آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔

اس بیان کے ردِ عمل میں نواز شریف نے کہا ہے کہ اداروں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔

جمعرات کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ کسی معزز جج کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسے ریمارکس دے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی وزیرِ اعظم کو یہ اچھا نہیں لگے گا کہ اس کے بارے میں ایسے ریمارکس دیے جائیں۔ وزیرِ اعظم چاہیں تو اس کی وضاحت طلب کرسکتے ہیں۔

چیف جسٹس کی جانب سے وزیرِ اعظم کو فریادی کہنے سے متعلق سوال پر نواز شریف کا مزید کہنا تھا ان کی وزیرِ اعظم سے چیف جسٹس کے ساتھ ملاقات پربات نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس ملاقات سے میرے بیانیے کو دھچکا نہیں لگا۔ میں آئین اور ووٹ کے تقدس کی بات کرتا ہوں۔ میں نے کبھی کسی کی حدود میں مداخلت نہیں کی۔ میں تو اس وقت بھی خاموش رہا جب جسٹس عظمت سعید نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ نواز شریف کو پتہ ہونا چاہیے کہ اڈیالہ جیل میں بہت جگہ ہے۔

نوازی شریف کا مزید کہنا تھا کہ کسی کا آلۂ کار بننے کی رسم اب ختم ہونی چاہیے۔ جو ادارے کسی کو آلۂ کار بناتے ہیں انہیں یہ سلسلہ اب روک دینا چاہیے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ میں مری تعمیرات کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جسٹس عبدالرشید کو بلایا گیا تھا لیکن یہاں وزیرِ اعظم میرے پاس چل کر آئے۔ جب مجھے بلایا گیا تو میں نہیں گیا بلکہ ان سے کہا یہاں آجائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ روزانہ کئی سائل آتے ہیں کسی کو روکتا نہیں۔ کسی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ پتہ نہیں کسی کو کیا تکلیف ہو۔

اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ان کو جو تکلیف ہے وہ سب کو معلوم ہے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) میں ڈیپوٹیشن پر آئے افسران سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اور وکیل نعیم بخاری کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔

چیف جسٹس نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ ٹی وی پر بیٹھ کر آپ بھی بہت باتیں کرتے ہیں۔ عدلیہ پر جو جائز تنقید ہے وہ کرنی چاہیے۔ اس سے ہماری اصلاح ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ روز کسی نے کراچی میں چیف جسٹس آف پاکستان کے بارے میں لگے اشتہارات کی بات کی۔ ان کو یہ نہیں معلوم کہ میں نے خود وہ اشتہارات ہٹانے کا حکم دے رکھا ہے۔ اگر میں آج ٹی وی میں تبصروں پر پابندی لگا دوں تو بہت سے لوگوں کا کام بند ہو جائے گا۔

نعیم بخاری نے پوچھا کہ جوڈیشل مارشل لا کے بارے میں بہت باتیں ہو رہی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر میں کہوں کچھ نہیں آ رہا تو پھر آپ کیا کہیں گے؟ ملک میں نہ جوڈیشل این آر او اور نہ ہی جوڈیشل مارشل لا آ رہا ہے۔ ملک میں صرف آئین اور جمہوریت رہے گی باقی کچھ نہیں ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG